“فلسطینیوں نے خود یہودی آباد کاروں کو زمینیں بیچی تھیں۔”احمد الیاس

“فلسطینیوں نے خود یہودی آباد کاروں کو زمینیں بیچی تھیں۔” یہ ہے وہ دلیل جو پہلی جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا سے یہودیوں کو لا لا کر فلسطین میں بسانے اور اسرائیل کے قیام کے حق میں دی جاتی ہے۔ یہ دلیل کئی سطح پر غلط ہے۔پہلی بات تو یہ کہ یہودی آباد کاروں کے پاس اسرائیل کے قیام سے قبل اس علاقے میں نجی ملکیت میں موجود زمین میں سے صرف دس فیصد زمین تھی۔

نوے فیصد زمین فلسطینیوں کے پاس تھی۔ پھر اس دس فیصد کا بھی صرف ایک تہائی فلسطینیوں سے خریدا گیا۔ باقی زمین یا تو برطانوی حکومت سے خریدی گئی یا غیر ملکی مالکان سے۔ گویا فلسطینیوں کی ایک بہت چھوٹی سی اقلیت (تقریباً سوا تین فیصد زمین کے مالکوں) نے ہی زمین یہودیوں کو بیچی تھی۔ کثیر اکثریت اس سے قطعی طور پر لاتعلق تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ بالفرض کسی خطے میں کسی دوسرے خطے سے دوسری قومیت کے لوگ آ کر زمین خرید لیں اور رہنے لگیں تو اس کا مطلب یہ کس طرح ہوجاتا ہے کہ مقامی خطے میں ان کے نام سے، خصوصا ان ہی کے لیے ایک قومی ریاست بھی لازماً قائم کی جائے ؟ مسلمانوں نے مغربی ممالک میں جاکر زمین جائیدادئیں خرید رکھی ہیں۔ کیا کل کو وہ سپین، پرتگال، سسلی یا کسی اور ملک میں مسلم قومیت کی بنیاد پر صرف اس دلیل پر اپنا ملک (جہاں سے آدھے مقامی لوگوں کو نکال دیا جائے اور باقیوں کو دوسری درجے کا شہری بنا دیا جائے) بنا کر بیٹھ جائیں گے کہ مقامی لوگوں نے زمینیں بیچی ہیں ؟ یہودی آئے اور آ کر بس گئے ۔۔۔ یہاں تک بات ٹھیک ہے۔ گزشتہ چودہ سو سال سے بار بار ایسا ہوتا آیا تھا کہ یہودی یورپی مسیحی ملکوں میں مار کھا کر پناہ لینے اسلامی علاقوں میں آجاتے تھے۔ مسلمانوں کا سنہری دور یہودیوں کے تمدن کا بھی سنہری دور تھا، خاص طور پر اندلس میں۔

لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آگ لینے آئیں اور گھر والوں کو نکال باہر کریں یا غلام بنا لیں ؟ آج بحث دو ریاستی حل پر ہوتی ہے کہ کیا ایک یہودی ریاست اسرائیل کے ساتھ ایک عرب ریاست فلسطین کو خودمختار ریاست تسلیم کرکہ اقوام متحدہ کا رکن بنایا جائے یا نہیں ۔۔۔ حالانکہ اصل بات تو یہ تھی کہ اس ساری مقدس سرزمین پر ایک ہی ریاست ہو جو نہ یہودی ہو نہ عرب بلکہ جہاں آ کر بس جانے والے سب لوگ زبان، نسل، مذہب کے امتیاز کے بغیر برابر شہری ہوں۔ مسئلہ فلسطین کا سب سے منصفانہ اور آئیڈیل حل دو ریاستی نہیں، ایک ریاستی فارمولا ہے۔ ایسی ریاست جس میں مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینوں کو بھی برابر شہریت اور شہری حقوق ملیں۔ اگر دو ہزار سال قبل نکالے گئے یہودیوں کو پوری دنیا سے آ کر بسنے کی اجازت ہو تو پچاس ساٹھ سال قبل جلاوطن کردئیے گئے لاکھوں فلسطینوں کو بھی ہو، بصورت دیگر دونوں کو نہ ہو۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فلسطین کے زیادہ تر حصے یعنی مغربی کنارے پر حکومت اسرائیل ہی کی ہے، حصہ وہ عملاً اسرائیل کا ہی ہیں۔ لیکن وہاں کے لوگوں کو اسرائیل کی شہریت، اسرائیل کے شہری حقوق اور اسرائیلی مقننہ میں جمہوری نمائندگی حاصل نہیں۔

اس لیے کہ مغربی کنارے کے لوگوں کو یہ سب دیا گیا تو اسرائیل کے یہودی اور عرب شہریوں کی تعداد برابر ہوجائے گی اور اسرائیل ایک یہودی قومی ریاست نہیں رہے گی۔ اسے نسل پرستی، اپارتھائیڈ اور قبضے کے علاوہ کیا نام دیا جائے ؟ نوم چومسکی تو کہتے ہیں کہ اسے اپارتھائیڈ کہنا بھی فلسطینوں کے ساتھ نا انصافی اور اسرائیل کو بہت غیر منصفانہ رعایت ہے۔ جنوبی افریقہ کے سفید فام لوگوں کو تو سیاہ لوگوں کی ضرورت تھی، وہ ان کی ورک فورس تھے، وہ انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن ختم نہیں کردینا چاہتے تھے۔ اس کے برعکس اسرائیل تو چاہتا ہے کہ مغربی کنارے کے فلسطینی مر جائیں یا بھاگ جائیں تاکہ جلد از جلد ان علاقوں میں یہودی اکثریت یقینی بنا کر دستوری طور پر ان کو ضم کرلیا جائے۔ غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کا یہی مقصد ہے۔ فلسطین کا مسئلہ انسان کی اصول پسندی اور اصل اخلاقی حالت کو جانچنے کی ایک بہترین کسوٹی ہے۔ جو شخص اس معاملے میں اسرائیل کے لیے صفائیاں پیش کرے، اسے نسل پرستانہ قبضہ کہنے کی بجائے “تنازعہ” کہے یا خاموش رہے ۔۔۔ وہ خواہ کتنا وہ متمدن، بااخلاق، اصول پسند، منصف مزاج بنتا پھرے، اندر سے پکا منافق اور ظالم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: