ہاں!!!! ہم برادران یوسف ہیں…. رقیہ سعید

مسجد اقصیٰ ہم ہرگز شرمندہ نہیں اگر ہم شرمندہ ہوتے تو آج تجھ پر گولیوں کی برسات نہ کی جاتی ہم شرمسار ہوتے تو تیرے بچوں پر آنسو گیس کے گولے نہ داغے جاتے ہمیں شرم آتی تو اپنی بہنوں کی پکار ہمارے دل کے دو ٹوٹے کر دیتی،

ہمیں افسوس ہوتا تو ہم دنیا میں کہرام نہ مچا دیتے ، تمہاری آہیں تمہاری سسکیاں ہمیں بے قرار کرتیں تو ہم تیرے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے۔ تمہارے درودیوار لہو سے بھیگے ہیں تو کیا؟ آخر شب معراج کا کچھ تو خراج دینا پڑتا ہے۔اگر تیرے سنہری گنبد سے خون رستا ہے تو کیا ہوا آخر کو تم یروشلم کا گلاب ہو۔۔ ہمیں قبلہ اول سے کیا سروکار؟ ہم کیا جانیں کہ ہمارے آقا نے مسجد اقصیٰ میں نبیوں کی امامت کی تھی۔ہم بھول گئے ہیں کہ صدیوں پہلے یہیں سے معراج کا سفر شروع ہوا تھا۔
ارے ہم اپنی مصنوعی دنیا میں خاصے مصروف ہیں ہم سے کوئی امید مت رکھنا۔ بس اب تو ابابیلوں کی منتظر رہنا مسلم تو اب خال خال ہی ملیں گے، دور کسی صحرا سے اب عمر رضی اللہ عنہ پابہ رکاب ہوکر بھی نہیں آئے گا کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ تو زمانے میں ایک ہی ہوتا ہے کسی ایوبی کے خواب بھی مت دیکھنا، ایوبی پیدا کرنے والی مائیں سولہ سنگھار میں مصروف ہیں۔ ایک عرب اخبار کی سرخی تھی ناں تیرا گناہ یہ ہے کہ تو یوسف کی طرح حسین ہے اور دنیا نے تیرے ساتھ برادران یوسف والا سلوک کیا ہے ۔۔۔ ہاں!!!! ہم برادران یوسف ہیں….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: