“قربان جاؤں قبلہ اوّل تو نے ان سب کو ننگا کردیا” عالم خان

اس کو قبلہ اوّل کا معجزہ کہا جائے یا کچھ اور کہ جس طرح ١٧ رجب سن ۲ ھجری میں اس سے تحویل نے اس وقت کے منافقوں کو ننگا کردیا تھا تقریبا ۱٤٤٠ سال بعد اس نے اقوام متحدہ کے آمن کے نعروں،

مغرب کے اظہار آزادی، میڈیا کے غیر جانبداری اور مسلمانوں کے اندر موجود دو رنگی، انسانیت کو اپنا مذہب قرار دینے والے دیسی لبرلز اور سیکولرز کو بھی ننگا کردیا۔ ایک طرف غاصب اسرائیل پوری قوت کے ساتھ مسلمان کی نسل کشی اور مال کشی کر رہا ہے تو دوسری طرف نام نہاد سیکولر اور لبرلز فلسطینیوں کی مزاحمت کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں ان کو غزہ کے شہداء کے جنازے نظر نہیں آتے البتہ مزاحمتی حملوں سے اٹھنے والا دھواں نظر آ رہا ہے ان کو صہیونیوں کے گھروں کو پہنچا ہوا نقصان نظر ارہا ہے لیکن غزہ کی ملیامٹ عمارتیں نظر نہیں آ رہی۔ ان کو فلسطینی بچے کے ہاتھوں پتھر نظر ارہا ہے لیکن یہودیوں کے جدید اسلحہ سے لیس بچے نظر نہیں آرہے ہیں۔ یہ تصویر اگر فلسطینی، افغان، کشمیری یا اور مظلوم مسلمان ملت کی ہوتی تو پوری دنیا کی میڈیا ہاوسز اس کو اچھال اچھال کر پیش کر رہا ہوتا ہمارے دیسی لبرلز اور سیکولرز کو فورا ہتھیار نہیں قلم اور “ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے” کی دھن یاد آتی لیکن یہ ایک یہودی بچے کی ہے جس پر میڈیا بھی خاموش، امن کے ٹھیکدار بھی خاموش، قلم اور کتاب کے دعویدار بھی خاموش۔
“قربان جاؤں قبلہ اوّل تو نے ان سب کو ننگا کردیا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: