تین اشخاص پر رحم

حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا ہے کہ تین اشخاص پر رحم آتا ہے۔

1۔ قوم کا وہ عزت والا آدمی جس وقت ذلیل ہو جاتا ہے۔

2۔ قوم کا وہ تونگر شخص جس وقت وہ فقیر ہو جاتا ہے۔

3۔ ایسا عالم شخص جس کو دنیا کھلونا بنا رکھے۔

حضرت حسن نے فرمایا ہے کہ علماء کی سزا ان کے دل کا مر جانا اور دل کی موت ہے کہ اعمال آخرت والے ہوں مگر ان کے ذریعے دنیا کی طلب کرتا ہوں کسی شاعر نے اچھا ہی کہا ہے۔ ” مجھے تعجب ہوتا ہے اس پر جو ہدایت کے بدلے گمراہی خرید نے والا ہے اور جو دین دے کر اس کے عوض دنیا خرید کرتا ہے اس پر اور زیادہ تعجب ہے۔ اور دونوں سے بھی زیادہ ایسے شخص تعجب کے قابل ہوتے ہیں جو اپنے دین کو دنیا کے ساتھ برابر فروخت کر دیتے ہیں۔”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے پورے عالم کو اتنا عذاب ہوگا کہ دوزخ بھی اس کے گرد پھرے گا یعنی اس قدر شدید عذاب اس کو دیا جائے گا۔ حضرت اسامہ بن زید نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سماعت کیا کہ روز قیامت ایک عالم کو لایا جائے گا اور پھر اس کو آگ کے اندر ڈال دیا جائے گا اس کے آنتڑیاں برآمد ہو جائیں گی تو آنتوں کے بل وہ یوں گھومنا شروع کر دے گا۔

جس طرح چکی کے گرد گھومتا ہے اہل دوزخ بھی اس کے گرد چکر لگانے لگے گے اور اس کو پوچھیں گے کہ تجھے ہوا کیا ہے وہ جواب دے گا میں امربالمعروف کیا کرتا تھا مگر میں خود عمل نہ کرتا تھا اور لوگوں کو برائی سے منع کرتا تھا مگر میں خود باز نہ رہتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: