دو باتیں میری امت کی ہلاکت کا باعث بنے گی

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے علماء وارث ہے انبیاء کے علیہ السلام اور بات تو صاف عیاں ہیں انبیاء علیہ السلام سے بڑا کسی دیگر شخص کا مرتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی ان کے وارث سے بھی عظیم تر دیگر کوئی فضل اور شرف والا نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ صاحب ایمان شخص تمام لوگوں سے افضل ہے جو عالم ہے جب حاجت ہو تو وہ فائدہ دے یعنی مسائل وغیرہ بتانے کی حاجت کے وقت نیز یہ کہ وہ درست مسئلہ بتا دے یہ مراد فائدہ دینے سے اور اگر اس کی ضرورت محسوس نہ ہو تو وہ خود بے نیاز ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے لوگوں کے درمیان نبوت کے درجے کے زیادہ قریب علم والے اور جہاد والے ہیں۔ اہل علم اس واسطے فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی اشاعت کرنے والے ہیں عوام میں اور اہل جہاد بوجہ جہاد کرنے تلواروں کے ساتھ برائے محفوظ رکھنے کے تعلیم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لے کر آئے۔ رسول کریم کا ارشاد ہے ایک قبیلہ کی موت ایک عالم کی موت سے آسان تر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔علماء کی سیاہی روزقیامت شہیدوں کے خون کے ساتھ وزن کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عالم کبھی سیر نہیں ہوتا علم سے حتی کہ اس کی انتہا جنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دو باتیں میری امت کی ہلاکت کا باعث ہے۔

1 علم کو ترک کر دینے کے باعث۔ 2مال جمع کرنے سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے عالم بنو یا علم کو حاصل کرنے والا یا علم کی بات کو سماعت کرنے والا یا عالموں کے ساتھ محبت رکھنے والا بنو مراد یہ ہے کہ ان سے متفر ہونے والے مت بنو نہیں تو تم برباد ہو کر رہ جاؤ گے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عالم کے لیے تکبر کرنا آفت ہے۔ داناؤں کی رائے ہے کہ جو شخص حصول ریاست کی خاطر علم کو سیکھے اس سے عبادت اور ریاست دونوں ہی جاتی رہتی ہے اللہ نے فرمایا ہے۔( میں ایسے لوگوں کو نشانیوں سے اپنی پھیر دوں گا جو ناحق تکبر کرنے والے ہیں زمین میں)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: