کبھی شکار کیا ہے۔زبیر منصوری

اس نے کہا دعوت دین کا کام کیسے کیا جائے؟ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ” کبھی شکار کیا ہے؟”وہ بولا “ہاں””کس چیز کا؟” “جنگلی کبوتر اور تیتر کا کبھی مچھلی کا!”

میں نے اس پر ایک نظر ڈالی اورخاموشی سے پہاڑ کی اونچائی سے سامنے دوور تک پھیلے جنگل کی طرف دیکھنے لگا وہ بولا “استاد میرا سوال؟ ” “کبوتروں کے شکاری بھلا دعوت دین کا کام کیا کریں گے؟” میں نے نرمی سے جواب دیا ہماری خاموشی پھر ماحول میں گندھے گہرے سکوت میں شامل ہوگئی۔ کچھ دیر بعدمیں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا “میرے بیٹے دعوت دین کے لئے شیروں کے شکاری چاہئیں ،شیروں کے!” صبح صادق مجھے مطلوب ہے میں کس سے کہوں
تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاو گے “میرے نبی محترم نے اسلام کو قوت بخشنے کے لئے نام لے کر دو میں سے ایک شیر مانگا تھا ” دیکھو ایک لاکھ بکریاں بھی ایک شیر کے سامنے کچھ نہیں ! اور یہ شیر اکثر تمہیں اوارہ سمجھے جانے والے نوجوانوں میں سے ملیں گے۔ اللہ کا دین مغلوب ہے اور تمہاری ساری پلاننگ بکریاں جمع کرنے پر مرتکز! وہ غور سے میری بات سن رہا تھا میں نے ایک پتھر دور ہوا میں اچھال دیا ہم دونوں سناٹے میں اس کے نیچے لڑھکنےکی آواز سنتے رہے ۔ ہم دراصل وہاں خاموشی کا شور انجوائے کرنے گئے تھے میں نے کہا “معاشروں کو شیردل قیادتیں چلاتی ہیں طاقتور، مؤثر ، شاندار اور بھرپور لوگ!

انہیں قریب لاو میرے نبی مہربان سے پہلے اور ان کے بعد بھی صدیوں تک قریش کے بیٹے چھائے رہے ، حاکم رہے “مگر استاد شیر کیسے شکار ہوں گے !” مین نے بے ساختہ کہا ” شدید تڑپ ،خواہش ، پیکر خاکی میں جاں،مہارت ، ضروری ذرائع و وسائل کی فراہمی ، شکار کے لئے ٹھیک کچھاروں کا انتخاب اور پھر شیروں کوسنبھالنےاور سدھانے کے لئے شایان شان انتظام!اور دانائی مگر یاد رکھنا ! اس کا یہ مطلب نہیں کہ عام انسان دعوت سے محروم رہیں وہ اپنی جگہ قیمتی ہیں سپاہی اپنی جگہ اہم مگر روم و ایران کی فتح کے لئے خالد بن ولید اور سعد بن وقاص کا لشکروں کے آگے ہونا ضروری ہے۔ میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور ہم اس ویرانے میں ڈھلوان پر سے نیچے اترنے لگے مغرب کا وقت قریب تھا وہ پر عزم لہجے میں بولا “استاد میں شیروں کا شکاری بننا چاہتا ہوں ! ” اس کی آواز میں سنجیدگی تھی ، میں ٹہر گیا ،میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا،اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا ” بیٹے تم بن سکتے ہو، تم بنو گے ، تبھی اللہ کے دین کی نصرت ہوگی مگر یاد رکھنا شیروں کا شکار، شکاریوں کے ساتھ مل کر کرنا اور ہاں ارادے جن کے اونچے اونچا بخت ہوتا ہے زمانے میں انہیں کا امتحاں بھی سخت ہوتا ہے ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: