اللہ کے رسول کی بد دعا اور قریش کے سرداروں کا انجام

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام پر مشرکین مکہ کے مظالم کا مستقل باب باندھا ہے

اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگ ارد گرد موجود تھے وہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھ نجات سمجھ لے کر آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر ڈال دیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا یہاں تک کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائیں اور اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ سے ہٹایا اور عقبہ کو بتا دیں حضور نے فارغ ہوکر روساء قریش ابو جہل ، عتبہ ، شیبہ ، امیہ بن خلف ان سب کے لئے اللہ سے بد دعا فرمائی چنانچہ میں نے یہ دیکھا کہ بدر کے دن یہ لوگ قتل ہوئے اور ایک اندھے کنویں میں ڈال دیئے گئے سوائے امیہ کے کے اس کا جوڑ جوڑ کٹ کر جدا ہو گیا تھا لہذا وہ کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: