حقوق میں والدین کا بدلہ

واضح رہے کہ اہل قرابت اور رشتہ داروں کا حق ضرور ی ہے ارحام اور پیدائش کے لحاظ سے تعلق کے باعث ان کے حقوق مزید پختہ ہوتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کوئی بیٹا اپنے والد کا بدلہ اس طرح ہی دے سکتا ہے کہ وہ اسے کسی کا غلام اگر پائے تو اسے خرید کر آزاد کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا نماز صدقے روزے حج عمرہ اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے سے بھی افضل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس شخص نے صبح ایسے حال میں کی کہ اس کے والدین اس کے ساتھ راضی ہو تو اس کے واسطے صبح کو دو دروازے جنت کے کھل جاتے ہیں اور اگر اس حالت میں شام کرتا ہے تو اتنا ہی ثواب حاصل ہوتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک کو راضی کرتا ہے تو ایک دروازہ کھلتا ہے کہ وہ دونوں اس کے ساتھ ظلم ہی کرتے ہو۔ خواہ وہ دونوں ہی ظلم کرتے ہو خواہ وہ دونوں ہی اس کے ساتھ ظلم کرتے ہو۔ اور جو ایسی حالت میں صبح کرے کہ والدین کو ناراض کرتا ہوں تو اس کے واسطے دو دروازے دوزخ کے کھل جاتے ہیں اور جو شام کو یوں کرے اس کی سزا اس طرح کی ہے اور اگر والدین میں سے کسی ایک کو ناراض کرے تو ایک دروازہ کھلتا ہے وہ دونوں ظلم ہی کرتے ہو خواہ وہ دونوں ظلم ہی کرتے ہو خواہ وہ دونوں ظلم ہی کرتے ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جنت کی خوشبو پانچ صد میل کی مسافت سے آنے لگتی ہے لیکن وہ اپنے والدین کی نافرمان کو حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کو قطع رحمی کرنے والا پائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اپنی والدہ اور والد اور ہمشیرہ اور بھائی سے بھلائ کرو پھر جو شخص قرابت والا ہوں اس سے بھلائی کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: