خطرناک عامل

آج ایک سچی کہانی جو دلچسپ شاید نا ہو لیکن عقل مند لوگوں کیلئے اشارہ ہے۔ یہ کہانی ایک لڑکے اظہر کی ہے جو صدف کی محبت میں گرفتار ہوگیا دونوں ایک ہی محلے میں ریتے تھے لیکن صدف کا خاندان اس کی ماں اسکا باپ اچھے لوگ نہیں تھے صدف کے باپ کا بہت بڑا ہوٹل تھا جہاں وہ جسم فروشی کا دھندہ کرتا تھا لیکن محبت تو اندھی ہوتی ہے جبکہ خود صدف بھی کوئی با کردار لڑکی نہیں تھی۔اظہر کے علاوہ بھی اس کے دوسرےلڑکوںسے تعلقات تھے لیکن اظہر کے ساتھ شادی کیلئے تیار تھی اظہر نے اپنی امی سے رشتے کیلئے بات کی اظہرکی ماں بھی ہریشان کہ انکا بیٹا کس خاندان سے بہو لانے کا بول رہا ہے اظہر کے بہت مجبور کرنے پر ماں بے دلی کے ساتھ رشتے کی بات کرنے چلی گئی ادھر صدف کی ماں نے ایک لمبی لسٹ بتا دی کہ اتنے تولہ زیور اتنے لاکھ حق مہر اتنی جائیداد نام کرو تو ہم شادی کیلئے تیار ہیں۔

اظہر کو ایک دوست نے سمجھایا کہ یہ سب مناسب نہیں صدف کے گھر والے بیٹی کی شادی کر رہے ہیں یا بیٹی بیچ رہے ہیں لیکن اظہر کو تو صدف چاہیئے تھی معاملہ چلتا رہا ایک دن صدف نے اظہر کو بتایا میری امی میرا رشتہ میرے کزن کے ساتھ کر رہی ہیں جو دبئی میں کام کرتا ہے اور بہت پیسے والا ہے اظیر نے صدف سے اس کے کزن کا نمبر لیا اور اس کو کال کرکے پوری بات بتائی کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں جبکہ صدف کے کزن نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور صدف کے کہنے پر ہی میں نے اس کے گھر شادی کی بات کی ہے اظہر کو اب بھی عقل نا آئی عشق سچ میں اندھا ہوتا ہے۔اظہر کو اس کا دوست ایک عامل کے پاس لے گیا یہ عامل سچ میں ایک خطرناک عامل تھا لیکن جو دوست اظہر کو لے کر گیا تھا وہ عامل اس کی ہر بات مانتا تھا یہاں ظلم یہ ہوا کہ اظہر جس کو اہنا دوست سمجھ رہا تھا اصل میں وہی اظہر کا دشمن تھا اس کا مقصد صرف اظہر کی بربادی تھا۔عامل بھی اتنا سخت قسم کا تھا کہ خدا کی پناہ اس عامل کا دعوی تھا کہ میں اپنے سر کا ایک بال کسی انسان کے اوہر رکھ دوں تو وہ زمین میں دھنس جائے اس کا یہ دعوی غلط بھی نہیں تھا وہ عامل تھا ہی انتہائی سخت اس نے اظہر سے کہا تمھارا کام ہوجائے گا پندرہ ہزار ایڈوانس دے دو اظہر نے رقم ادا کی عامل نے دو دن بعد آنے کو کہا دو دن بعد عامل نے کچھ تعویز دیئے کہ یہ صدف کے گھر میں دفن کر دو پھر تماشہ دیکھو۔

اظہر آدھی رات کے وقت دیوار پھلانگ کر صدف کے گھر میں داخل ہوا تعویز ایک گملے میں دبائے اور واپس آگیا لیکن اظہر یہ نا سمجھ پایا کہ اس کا دماغ اب عامل کے قابو میں ہے جو عامل چاہے گا اظہر وہی کرے گاکیونکہ اظہر اس قسم کا انسان نہیں تھا نا ہی وہ کبھی ان چکرون میں پڑا تھا بس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر عامل کے پاس گیا یہی اس کی غلطی تھی۔دوسری طرف صدف کی ماں نے صدف پر پابندی لگا دی کہ تم فون کا استعمال نہیں کرو گی اور گھر سے بھی نہیں نکلو گی اب یہ پابندی ماں کی طرف سے تھی یا صدف کا جھوٹ تھا اس کا فیصلہ تو وقت نے ہی کرنا تھا بہت دن اظہر کوشش کرتا رہا لیکن صدف سے بات نا ہو پائی دوسری طرف اظہر مسلسل عامل کے پاس بھی جاتا رہا عامل کے بقول صدف کی ماں بھی اظہر پر سخت جادو کروا رہی ہے لہذا آج بکرا صدقہ کرنا ہے تم اتنے ہزار دے دو کبھی تعویزات کے نام پر پیسہ لوٹنا اظہر پیسہ لٹاتا رہا کہ کسی طرح اپنی محبت کو حاصل کرلے۔

پھر عامل نے اظہر کے دماغ میں یہ بات ڈالنا شروع کردی کہ تم صدف کو لے کر بھاگ جاؤ اور کورٹ میرج کرلو اظہر اند سے ایک شریف انسان تھا کسی کی بیٹی کو بھگانا اس کی غیرت گوارہ نہیں کرتی تھی اس نے آخر کار بہت مشکل سے صدف کے ساتھ رابطہ کر ہی لیا دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کورٹ میرج کر لیتے ہیں اس کے بعد صدف اپنے گھر واہس آجائے گی جب حالات مناسب ہوں گے تو وہ اہنے گھر والوں کو بتا دے گی۔اس دوران عامل نے دو تعویز بھی اظہر کو دیئے تھے کہ یہ تم اپنے پاس رکھو تمھاری حفاظت کریں گے کوئی تمھیں گولی بھی مارے گا تو اثر نہیں کرے گیآخر کار ایک دن اظہر نے صدف کو اس کے کالج سے لیا اور کورٹ میرج کرلی عدالت سے فارغ ہونے کے بعد اظہر نے صدف کو اس کے کالج واپس چھوڑا اور گھر آگیا گھر ہہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد صدف کی کال آگئی کہ امی کو پتا چل گیا ہے وہ میرے کالچ میں بیٹھی میرا انتظار کر رہیں تھیں اطہر سوچ میں پڑ گیا کہ اس نے اپنے پروگرام کے بارے میں کسی کو بتایا ہی نہیں تھا پھر صدف کی ماں کو کیسے پتا چلا۔ان حالات کے باوجود صدف کی ماں نہیں مانی ایک دن صدف کے گھر کے باہر ٹینٹ لگے دیکھے خوب ناچ گانا ہوا اس کام کیلئے سپیشل گکوکار بلوائے گئے اظہر کو پتا چلا کہ صدف کا نکاح ہو رہا ہے اظہر حیران رہ گیا کہ یہ کیسی لڑکی ہے جو نکاح پر نکاح کر رہی ہے اظہر پھر اس عامل کے پاس پہنچا کہ یہ معاملہ ہے عامل نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں لڑکی اب بھی تمھاری ہے جب کوئی تعویز حلق سے نیچے اترتا ہے تو یہی ہوتا ہے صدف کی ماں نے صدف کو تعویز پلائے ہیں میں نے تمھیں پہلے ہی کہا تھا کہ لڑکی کو لے کر بھاگ جاؤ تم پریشان نا ہونا آج ہی بکرا صدقہ کرتا ہون اور عمل کرتا ہوں تم پیسے دے جاؤ اظہر نے مطلوبہ رقم ادا کردی۔

اس رات اظہر جب اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا اس کی آنکھ کھل گئی اظہر نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا جن اس کے سامنے کھڑا ہے موٹا تازہ جن جس کا سر کمرے کی چھت سے لگ رہا تھا اظہر اگلے دن پھر عامل کے پاس پہنچ گیا اس کو رات والا واقعہ بتایا عامل نے کہا کہ یہ جن صدف کی ماں نے بھیجا تھا تم دیکھنا میں آج اس سے بھی بڑا جن صدف کی ماں کےپاس بھیجوں گا۔اسی طرح کچھ دن اور گزر گئےصدف کے ساتھ رابطہ ناممکن ہوگیا تھا ایک دن شام کے وقت اظہر نے صدف کے باپ کو دیکھا اور سیدھا اس کے پاس پینچ گیا اظہر نے ادب سے سلام کیا اور کہا کہ آپ لوگ یہ ظلم نا کریں صدف میری بیوی ہے نکاح پر نکاح نہیں ہوتا صدف کے باپ نے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی دونوں کا جھگڑا ہوگیا۔بات بہت بڑھ گئی اظہر رات کے وقت اس عامل کے پاس پہنچ گیا ابھی اظہر نے اتنا ہی کہا کہ صدف کے باپ سے جھگڑا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: