بچے کا عقیقہ

حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کا ساتویں روز عقیقہ کیا جائے اس کا نام رکھ دیا جائے اور اس سے تکلیف دور کر دی جائے جس وقت اس کی عمر چھ برس ہو جاتی ہے تو اس کو ادب تعلیم کیا جائے اور جس وقت وہ نو سال کا ہو جائے تو اس کے بستر کو علیحدہ کر دیا جائے جس وقت اس کی عمر 13 سال ہو جائے تو نماز ترک کرنے کے باعث اس کو مارے اور جب وہ سولہ سال کا ہو جاتا ہے تو اس کا والد اس کا نکاح کردے اس کے بعد والد اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اس طرح سے کہے تجھے میں نے ادب سکھایا اور تیرا نکاح کر دیاہے۔ میں نے دنیا کے فتنے سے اور آخرت کے فتنے سے اور آخرت کے عذاب سے تیرے لیے پناہ کا طالب ہوں االلہ سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ باپ کے اوپر اس کی اولاد کا حق ہوتا ہے کہ وہ اولاد کو بہتر ادب تعلیم کرے اور اچھا نام رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہر بچہ گروی رکھا ہوا ہے اور بچی بھی گروی رکھی ہوئی ہے عقیقہ کے ساتھ ساتویں روز اس کی جانب سے جانور ذبح کریں اور بچے کا سر منڈوا دے۔ حضرت قتادہ عقیقہ کے جانور جس وقت ذبح کرتے تھے جانور کی کچھ اون کو پکڑ کر جانور کی شاہ رگ کے سامنے ذبح کرتے تھے اذا بعد بچے کی چند یا پر رکھ دیتے تھے یہاں تک کہ مانند دھاگے کے اس سے پانی ٹپکنے لگتا تھا ازاں بعد بچے کے سر کو دھوتے تھے اور پھر اس کا سر منڈواتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مبارک کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اپنے بچے کی شکایت کرنے لگا آپ نے پوچھا کیا اس کے خلاف تو نے بد دعا کی ہے اس نے جواب دیا کہ ہاں تو آپ نے فرمایا تم خود ہی اس کو برباد کر چکے ہوں بچے کے ساتھ نرمی رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اقرع بن حابس نے دیکھا کہ آپ جناب اپنی اولاد حضرت حسن کو چوم رہے تھے اس نے کہا میرے تو دس بجے ہیں اور کسی ایک کو بھی میں نے کبھی چوما نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو رحم نہ کرے اس پر بھی رحم نہیں فرمایا جاتا۔حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسامہ کے منہ کو دھو وہ بہت چھوٹے تھے میں نے اس کا منہ دھونا شروع کر دیا اور میں نفرت محسوس کر رہی تھی کہ غلام زادہ ہے تو آنحضرت نے میرے ہاتھ پر ضرب لگائی پھر اس کو آپ نے خود پکڑ لیا اس کے منہ کو دھویا اور پھر اس کو بوسہ دیا اور فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ حسن گر پڑے جس وقت کہ وہ بچہ ہی تھے آپ منبر شریف سے نیچے اتر آئے ان کو اٹھایا اور پھر یہ آیہ کریمہ پڑھی۔( بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: