قرب الہی کب حصول ہوتا ہے

حضرت عبداللہ بن شداد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے کہ اس دوران حضرت حسن آگئے جبکہ ابھی وہ بچہ ہی تھے اور آنجناب کے گردن مبارک پر چڑھ بیٹھے آپ سجدے کی حالت میں تھے تو آنحضرت نے سجدے کو طویل کر دیا لوگوں نے جانا کے کچھ واقعہ ہوگیا ہے پھر نماز سے فراغت کے بعد لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے بہت طویل سجدہ فرمایا ہے تو آپ جناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا بیٹا میرے اوپر سوار ہو گیا تھا لہذا میں نے یہ گوارا نہ کیا گیا اس کو جلدی سے پیچھے ہٹاؤ تاکہ وہ اپنی خوشی کی تکمیل کر لے اس میں متعدد نکات پائے جاتے ہیں۔

1۔ ایک یہ ہے کہ قرب الہی کا حصول ہوتا ہے کیونکہ سجدے میں پڑا ہوا بندہ اللہ کے بہت قریب ہوتا ہے۔ 2۔ بچے پر نرمی اور اس کے ساتھ بھلائی روا رکھنا۔
3۔ امت کو تعلیم دینا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بچے کی خوشبو جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔یزید بن حضرت امیر معاویہ نے کہا ہے کہ میرے باپ نے حضرت حنف بن قیس کو طلب فرما کے ان سے پوچھا کہ اے ابو البحر! تم کیا کہتے ہو بچے کے متعلق انہوں نے فرمایا اے امیر المومنین یہ ہمارے دلوں کے پھول ہوتے ہیں یہ ہماری کمرکا ستون ہوتے ہیں یعنی ہماری قوت ہوتے ہیں ان کے واسطہ ہم نرم زمین ہے سایہ دار آسمان ہے ان کی مدد کے ذریعہ ہم بڑے معاملہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ وہ اگر طلب کریں تو ہم ان کو دے دیتے ہیں اگر وہ غصے میں ہوتے ہیں تو ہم انہیں راضی کیا کرتے ہیں نیز ان کی سرزمین تم کو محبت فراہم کردیتی ہے اور تمہیں ان کی محبت گواراہوگی تم ان کے اوپر شدید بوجھ مت بنو۔ جس سے ان کی زندگی ہی ان کے لیے تکلیف دہ ہو جائے کہ وہ تمہاری موت ہو جانا پسند کرنے لگے اور تمہارے قرب کو ناگوار جاننے لگے۔ حضرت معاویہ نے فرمایا اے حنف تمہاری خوبی اللہ کے واسطے ہیں تم ایسے وقت پر میرے پاس پہنچے جب کہ میں اپنے فرزند یزید سے ناراض تھا۔ پھر حضرت حنف وہاں سے جس وقت باہر چلے گئے تو وہ معاویہ یزید کے ساتھ راضی ہوگئے اور اس کو دو ہزار درہم اور دوصد ملبوسات بھیجے۔ یزید نے ایک ہزار درہم اور ایک صد پار چات حضرت حنف کی طرف بھیجتے ہوئے برابر برابر تقسیم کرلیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: