بیوی کے بہت حقوق

بیوی کے بہت حقوق اپنے خاوند پر جن میں سے ایک یہ ہے کہ شوہر بیوی سے اچھا برتاؤ کرے اس کی عقل کے ضعف کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ مہربان رہے اس کے دکھ کو رفع کرے بیویوں کے حقوق کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد الہی ہے۔( اور تم سے انہوں نے پکا قول لیا)۔اور یہ بھی فرمایا “اور کروٹ کے ساتھی پر ” کہا گیا ہے کہ وہ ساتھی سے عورت مراد ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین چیزیں وصیت فرمائی جس وقت آپ کی زبان اقدس بوقت وصال لڑکھڑاتی تھی تو آپ کے کلام میں ہلکا پن پیدا ہو رہا تھا ارشاد فرمایا نماز نماز اور وہ جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہوئے ان کو ایسی تکلیف نہ دینا جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو اور اللہ کا خوف کرو عورتوں کے بارے میں وہ قید ہوتی ہیں تم لوگوں کے ہاتھوں میں مراد یہ ہے کہ وہ اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں جن کو تم لوگ بطور امانت الہیہ لئے ہوتے ہو اور ان کی شرمگاہوں کو تمہارے لیے بذریعہ اللہ کے کلام کے حلال کیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنی زوجہ کی بداخلاقی پر صابر ہے اللہ اس کو مصائب پر حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کے اجر جتنا اجر عطا فرمائے گا اور جس عورت نے اپنے شوہر کی بدخلقی پر صبر کر لیا اس کو اللہ فرعون کی بیوی آسیہ کے ثواب کی مانند ثواب دے گا۔

زوجہ کے ساتھ بہتر سے لوگ صرف یہ نہیں ہوتا کہ اس کی تکلیفوں کا تدارک کیا جائے بلکہ اس سے ہر وہ چیز دفع کرنا ہوتا ہے جس سے اسے تکلیف ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے اور جب وہ غصے میں یا ناراض ہو اس وقت حلم ظاہر کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ملحوظ نظر رکھنا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج پاک آپ کی کسی بات کو بھی نہیں مانتی تھیں ان میں سے کوئی تو رات ہونے تک بات نہ کرتی تھی پھر بھی آپ کی طرف سے ان کے ساتھ حسن سلوک ہوتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: