نوے سالہ بوڑھا – زبیر منصوری

وہ نوے سالہ بوڑھا لڑکھڑاتاہوا اسکول میں داخل ہوا اپنا سائیکل رکشہ ایک طرف کھڑا کیا پسینہ پونچھتا ہوا اندر پہنچا تو احسان مند طلبہ نے اسے گھیر لیا عزت سے بٹھایا بوڑھے نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ان طلبہ کی فیس کی آخری قسط ان کے حوالے کی اور شکستہ لہجے میں بولا “میں بس اتنا ہی کر سکتا تھا میرے بچو اب مجھ سے سائیکل رکشہ مزید نہیں کھینچا جاتا۔۔”اسکول کے آخری سال کے یہ طلبہ اس سے چمٹ گئے آنسووں کا خراج پیش کیا کچھ دیر بعد وہ اٹھا تو یہ ۳۰۰ بچوں میں سے آخری بیج تھا جس کی فیس اس نے جمع کروائی تھی وہ سولہ طویل برسوں میں اب تک بوڑھی ہڈیوں کے ساتھ انسانوں کا بوجھ کھینچتا بمشکل ساڑھے تین لاکھ روپے کما کر اسکول کے بچوں کی فیس کے لئے دے چکا تھا ۔

اسکول کی سیڑھیاں اتر کر وہ باہر پہنچا تو اس نے مڑ کر دیکھا اور خیالوں میں دور ماضی میں پہنچ گیا جب ۷۶ برس کی عمر میں سائیکل رکشہ کے کام سے ریٹائرمنٹ لے کر اپنے گاوں پہنچا تھا کہ اب بس آرام کروں گا مگر پھر وہ یہ دیکھ کر دُکھی ہو گیا کہ اس کے اردگرد بہت سارے بچے محنت مزدوری کرتے تھے ان کے پاس فیس کے پیسے جو نہیں تھے. تب اس نے ایک بار پھر رکشہ کا ہینڈل سنبھالنے کا فیصلہ کیا اور اس بار اس کے سامنے اپنی ذات نہیں ایک بڑا مقصد تھا وہ دیوانوں کی طرح دن رات رکشہ چلاتا معمولی کپڑے پہنتا اور کم کھاتا اور سارے پیسے بچا کر بچوں کی فیس کے لئے دے دیتا تھا وہ سولہ برس مستقل مزاجی سے یہ محنت کرتا رہا اور اس نے ۳۰۰ بچوں کی زندگیاں بنا دیں ۔۔ایک چھوٹے سے قصبے میں یہ شخص ۲۰۰۱ میں دوبارہ ریٹائر ہوا اور ۲۰۰۵ میں دنیا سے رخصت ہو گیا مگر اپنے پیچھے مقصد کے لئے قربانی محنت جذبہ کی ایک لازوال داستان چھوڑ گیامیں اور آپ تو بغیر رکشہ چلائے بھی اتنے پیسے جمع کر سکتے ہیں کہ جس سے ایک بچہ تعلیم حاصل کر جائے ہماری تو عمر بھی ۷۶ برس نہیں۔۔ منصورہ سندھ میں صرف ۳۰۰۰ ماہانہ سے ایک بچے کی تعلیم تربیت رہائش کھانا سب کچھ ممکن ہے،اور ایک بچے کا مطلب ہے ایک گھرانہ ایک خاندان ۔۔۔تو پھر آپ کیوں نہیں ؟اور اب نہیں تو کب؟(اگر دل میں خیر کی کونپل پھوٹے تو مولانا احسن بھٹو صاحب سے اس نمبر پر رابطہ کر لیں0300 28 29 130 اگر نہیں تو شئیر یا کسی صاحب حیثیت کو ٹیگ تو کر ہی سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: