غریب پڑوسی امیر کو پڑوسی کی کہانی

مکان کی برکت یوں ہے کہ اس کے پڑوسی اچھے لوگ ہوں اور مکان کی نحوست یہ ہوتی ہے کہ وہ تنگ ہو اور پڑوس میں برے لوگ ہوں۔ گھوڑے میں برکت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے قابو میں رہتا ہے اس کی عادت اچھی ہو اور گھوڑے کی نحوست یہ ہوتی ہے کہ وہ قابو میں نہ رہے اور اس کی عادتیں بری ہوں۔

اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ صرف اتنا ہی نہیں کہ پڑوسی دوسرے کے لیے ایذاء رساں نہ ہو بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایذاء کو برداشت کریں کیونکہ اگر پڑوسی ایذاء کو برداشت نہ کریگا تو اس میں بھی حق کی ادائیگی نہ ہو گی بلکہ لازم ہے کہ ان کو برداشت کرے۔ اور نرمی اختیار کرے پڑوسی سے اور اس کے ساتھ بھلائی ہی کرے کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن ایک غریب پڑوسی امیر کو پڑوسی کو پکڑ لے گا اور کہے گا کہ اے میرے پروردگار اس سے پوچھا جائے کہ اس نے مجھ سے نیکی کیوں روک رکھی تھی اور مجھ پر اس نے اپنے دروازے کیوں بند رکھے۔ حضرت ابن مقفع کو خبر ہوئی کے سواری کا قرض ادا کرنے کے لیے ان کا پڑوسی اپنا مکان بیچ دینے والا ہے یہ اس کے مکان کے سائے میں بیٹھ جاتے تھے آپ نے فرمایا میں اس کے گھر کے سایہ کا احترام روا نہیں رکھ سکا اگر اس نے غریب ہوتے ہوئے مکان کو بیچ دیا بس آپ نے ہدیہ کے طور پر اس کو مکان کی قیمت کے برابر دے دی اور کہنے لگے کہ اسے فروخت مت کرو۔ ایک بزرگ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ گھر میں چوہے بہت زیادہ ہو چکے ہیں ان کو کسی نے کہا کہ آپ گھر میں بلی پال رکھیں تو آپ نے فرمایا اس میں مجھے خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ بلی کی آواز دنیں گے تو وہ چو ہے پڑوسی کے گھر بھاگ جائیں گے۔ تو پھر یوں ہو جائے گا کہ جس چیز کو میں اپنے لیے گوارا نہیں کرتا وہ ان کے لئے کیوں پسند کروں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: