پڑوسی کے حقوق

پڑوسی کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ انہیں سلام کہنے میں پہل کرنا چاہیے ان کے ساتھ لمبا کلام نہ کریں ان پر زیادہ سوالات نہ کیے جائیں بیمار ہو تو اس کی تیمارداری کی جائے کوئی مصیبت پڑتی ھے

تو پڑوسی کی حوصلہ افزائی کی جائے تعزیت میں پڑوسی کا ساتھ دینا چاہیے خوشی کا موقع ہو تو مبارکباد کہی جائے خوشیوں میں پڑوسی کے ساتھ شامل ہو لغزش ہو جائے تو درگزر سے کام لے نہ اس کی چھت پر جھانکا کریں نہ ہی پڑوسی کے صحن میں نظر مارے پڑوسی کے پر نالے میں سے پانی نہ بہائے اور نہ ہی اس کے گھر کے صحن میں مٹی پھینکے۔ اس کے گھر جانے کی راہ کو تنگ نہ کیا جائے وہ جو کچھ اپنے گھر میں لے جاتا ہوں اس پر نگاہوں سے مت گھورے اس کا کوئی راز یا پردہ اپنے سامنے افشاء ہو جائے تو اسے مت ظاہر کرے۔ آفت میں اس سے تعاون کرنا چاہئے پڑوسی کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی نگہداشت کرے پڑوسی کے خلاف کسی کی باتوں پر دھیان نہ دے اس کی عزت سے نظریں جھکا کر رکھے اس کی ہر ادا پر بھی نظر نہ ڈالا کریں اس کے بچوں کے ساتھ نرمی سے بات کرے اگر وہ دین کے بارے میں جہالت کا شکار ہو تو اس کو سیدھی راہ بتائے دنیا کے بارے میں بھی اس کو صحیح مشورہ دیا کرے مسلمانوں پر عائد ہونے والے پڑوسی کے حقوق یہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کیا تم کو معلوم ہے کہ پڑوسی کا حق کیا ہوتا ہے

اگر اسے تعاون مطلوب ہو تو اس سے تعاون کرو اگر اسے مدد مطلوب ہو تو اس کی مدد کرو قرض چاہتا ہو تو اسےقرض بھی دیا کرو اگر فقیر ہو جاتا ہے تو اس پر احسان کریں بیمار پڑے تو عیادت کرو مر جاتا ہے تو جنازہ پڑھا اس کو بھلائی حاصل ہو تو اسے مبارکباد کہو کوئی دکھ پہنچے تو اسے تسلی دی جائے ۔ اپنے مکان کو اس سے زیادہ اونچا نہ کرو جو اس سے ہوا کو روکے اس کو کچھ بھی تکلیف نہ دو جب پھل خرید کرو تو اس کو بطور ہدیہ بھیجا کرو۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر مخفی طور پر اپنے گھر میں لے جایا کرو اور تمہارا بچہ پھل سمیت باہر نہ آئے تاکہ پڑوسی کا بچہ نہ دیکھیں اور اپنی ہنڈیا کی خوشبو سے بھی اس کو تنگ نہ کیا جائے جو اسے معلوم ہو جائے کہ تم نے کھانا بنایا ہے جبکہ پڑوسی محتاج ہو اور اس کو بھی ایک چمچ بھر دے دیا کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: