شراب کے حوالے سے آیت کریمہ کا نزول

قرآن پاک میں اللہ کی طرف سے شراب نوشی کے بارے میں تین آیات کریمہ کا نزول فرمایا گیا ہے۔( تجھے پوچھتے ہیں شراب اور جوئے کے متعلق انہیں فرما دو کہ ان دونوں میں ہی بڑا گناہ ہے اور فائدے ہیں خلق کےواسطے)۔اس آیت کو سن کر کچھ لوگوں نے شراب پینا چھوڑ دیا اور کچھ ان دونوں کچھ مسلمان شراب نوشی کرتے تھے بالآخر ایک روز ایک شخص نے شراب پی لی اور نماز بھی پڑھنے لگا اور کچھ غلط الٹے سیدھے الفاظ بولے تو اللہ کی طرف سے اس آیت کریمہ کا نزول ہوا۔

( اے ایمان والو نماز کے قریب مت جاؤ جس وقت تم مستی میں ہوتے ہو)۔ ازاں بعد بعض لوگ شراب نوشی کرتے رہے اور بعض نے ترک کر دیں بالآخر ایک دن حضرت عمر نے شراب پینے کے بعد اونٹ کا جبڑا پکڑ لیا اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے سر پر زخم بھی کر دیا پھر وہ بیٹھ گئے اور مقتولین بدر کے لیے رونے لگے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی۔ تو آنحضرت غضب ناک حالت میں اپنی چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے اور جو کچھ بھی آپ کے ہاتھ مبارک میں اس وقت تھا اس کے ساتھ ان کی پٹائی کی تو حضرت عمر نے کہا میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے غضب سے اور اس کے رسول کے غضب سے بھی پھر اس آیت کریمہ کا نزول ہوا۔ ( بے شک شیطان کا ارادہ ہے کہ تم لوگوں میں شراب اور جوئے کے سلسلے میں عداوت اور بغض ڈالے)۔حضرت عمر نے فوری طور پر کہہ دیا ہم باز آگئے ہم باز آگئے کیونکہ آیت کے آخر پر آیا تھا کہ کیا تم رک جانے والے ہو؟۔اور کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں جو شراب کو حرام قرار دیتی ہیں اور سب متفق ہے اس کے حرام ہونے پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: