معراج کا واقعہ

بخاری شریف میں مروی ہے حضرت قتادہ اور وہ انس بن مالک سے اور وہ مالک بن صعصہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی معراج کا واقعہ سنایا اور آپ نے فرمایا کہ میں حطیم میں تھا نیز فرمایا کہ میں لیٹا ہوا تھا کہ حجر کے مقام میں اچانک ایک آنے والا میرے پاس آ گیا اس نے کچھ کلام کیا جو میں نے سماعت کیا جب کہ وہ بول رہا تھا پھر اس مقام اور اس مقام کے درمیان سے چاک کردیا گیا راوی بیان کرتے ہیں جارود میرے نزدیک ہی بیٹھے تھے۔

میں نے ان سے دریافت کیا کہ اس مقام اور مقام سے کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے بتایا کہ مراد ہے حلقوم سے ناف تک کے درمیان اس کے بعد میرے دل کو انہوں نے باہر نکال لیا میرے قریب سونے کا طشت لایا گیا وہ ایمان کے ساتھ بھرا ہوا تھا پھر میرے قلب کو دھویا گیا اس کو علم اور ایمان سے بھر دیا۔ اور اسے واپس اپنے مقام پر رکھا گیا اس کے بعد ایک سفید رنگ کا جانور میرے پاس فراہم کردیا گیا وہ خچر سے قد میں چھوٹا اور گدھے سے بلند تھا حضرت جارود حضرت انس سے پوچھتے ہیں اے ابوحمزہ کیا وہ جانور براق تھا۔ حضرت انس نے کہا ہاں اور اس کا قدم منتہاۓ نظر پر پڑتا تھا۔ میں نے اس پر سواری کر لیں اور مجھ کو ساتھ لے کر جبریل علیہ السلام روانہ ہوئے حتیٰ کے آسمان دنیا تک جا پہنچے اس کے دروازے کو جبریل لے کھلوالیا یہ سوال کیا گیا کہ کون ہے انہوں نے جواب دیا جبرئیل بھی پوچھا گیا ساتھ اور کون ہے جبریل نے جواب دیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا کہ انہیں بلایا گیا ہے۔ جبریل نے جواب دیا کہا گیا انہیں خوش آمدید ان کا تشریف لانا مبارک ہو دروازہ کو کھولا گیا میں وہاں گیا تو وہاں حضرت آدم علیہ السلام تھے جبرئیل کہنے لگے یہ آپ کے باپ آدم ہیں ان کو سلام کریں بس میں نے سلام کیا انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہنے لگے صالح بیٹے اور صالح نبی کو خوش آمدید۔

اس کے بعد مجھے ساتھ لیے ہوئے جبریل اوپر کو چڑھنے لگے حتی کہ آسمان دوم پر آگئے اور اس کا دروازہ جبرائیل نے کھلوا لیا وہاں پوچھا گیا کہ کون ہے جواب دیا کہ جبرائیل دریافت کیا گیا کہ آپ کے ساتھ اور کون ہے جواب دیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ سوال ہوا کیا ان کو بلایا گیا ہے جبریل نے کہا ہاں تو کہا گیا ان کی آمد مبارک ہو اور دروازہ کھول دیا گیا میں جس وقت وہاں پہنچ گیا تو دیکھا کہ وہاں حضرت عیسی اور حضرت یحیی علیہ السلام موجود ہے وہ دونوں ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی ہیں جبرائیل نے مجھے کہا کہ یہ ہے عیسی اور یحییٰ علیہ السلام آپ ان کو سلام کرے میں نے سلام کیا انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور انہوں نے کہا صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید۔ اس کے بعد مجھے جبرائیل علیہ السلام آسمان سوم پر لے گئے اور چاہا کہ دروازہ کھول دیا جائے دریافت کیا گیا کہ کون ہے جواب دیا جبرائیل پھر پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا کیا ان کو بلایا گیا ہے یہ جبریل نے جواب دیا کہا گیا انہیں خوش آمدید ان کی آمد مبارک ہو اور دروازہ کھولا گیا میں جس وقت وہاں پر پہنچا تو حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ میری ملاقات ہوئی جبرائیل نے بتایا یہ یوسف علیہ السلام ہے ان کو سلام کرے میں نے سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہنے لگے

صالح بھائ اور صالح نبی کو خوش آمدید۔اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام مجھے آسمان چہارم پر لے گئے وہاں چاہا کے دروازہ کھولا جائے پوچھا گیا کون ہے انہوں نے جواب دیا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کون ہے جبرائیل جواب دیتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا گیا کہ انہیں بلایا گیا ہے جبرائیل نے کہا یہ سن کر دربان بولے خوش آمدید ان کی یہاں پر آمد مبارک ہو پر دروازہ کھول دیا گیا جس وقت میں وہاں آ پہنچا تو وہاں مجھے ادریس علیہ السلام دکھائی دیے جبرئیل نے کہا کہ یہ ادریس علیہ سلام ہے ان کو سلام کرے میں نے سلام پیش کیا تو انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور کہنے لگے صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید۔ازاں بعد مجھے ساتھ لیے ہوئے جبرائیل اوپر چڑھتے گئے پنجم کے آسمان پر جا پہنچے دروازہ کھلوا نا چاہا تو پوچھا گیا کون ہے جبرائیل نے جواب دیا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ہمراہ اور کون ہے جبرائیل نے جواب دیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سوال ہوا کہ یہ طلب کیے گئے ہیں جبرئیل جواب دیا ہاں تو کہا گیا ان کو خوش آمدید ان کا یہاں آنا مبارک ہو وہاں میں جو پہنچا تو مجھ سے ہارون علیہ السلام کی ملاقات ہوئی جبرائیل نے بتایا یہ ہارون علیہ سلام ہے ان کو سلام کرے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب دیا۔

اور کہنے لگے صالح بھائ اور صالح نبی کو خوش آمدید۔اس کے بعد مجھے لیے جبرائیل اوپر جانے لگے حتی کہ ہم آسمان ششم پر جا پہنچے گئے جبرائیل نے دروازہ کھلوایا تو سوال ہوا کون ہے جبرائیل نے جواب دیا جبرائیل پوچھا کیا آپ کے ہمراہ کون ہے جبرائیل نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے جبرائیل نے جواب دیا ہاں تو دربان فرشتے نے بولا ان کو خوش آمدید ان کا یہاں آنا مبارک ہو جب وہاں میں پہنچا تو موسی علیہ السلام ملے جبرائیل نے کہا یہ موسی علیہ السلام ہے انہیں سلام کرے میں نے سلام کیا موسی علیہ السلام نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا صالح بھائ اور صالح نبی کو خوش آمدید۔ وہاں سے بھی ہم آگے چلنے لگے تو وہ رو پڑے انہیں پوچھا گیا آپ روتے کیوں ہیں تو کہنے لگے میں اس لیے روتا ہوں کہ ایک نوجوان کو میرے بعد مبعوث فرمایا گیا ہے جس کی امت والے میری امت کے لوگوں سے زیادہ تعداد میں جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد مجھے لیے ہوئے جبرائیل آسمان ہفتم پر گئے اور دروازے کو کھلوایا وہاں بھی سوال ہوا کون ہے جبرائیل نے جواب دیا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے جواب دیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا گیا کہ انہیں طلب کیا گیا ہے جبرائیل نے جواب دیا ہاں کہا گیا ان کو خوش آمدید ان کی تشریف آوری مبارک ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: