اچھے اور برے دوست کی مثال

– جلیل القدر صحابی سيدنا ابو موسیٰ الأشعري رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :

❐ ”مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ،

“نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔

❐ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً،

جس کے پاس مشک ہے (اور اگر تم اس کی محبت میں ہو تو) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا (کم از کم) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے۔

❐ وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً.“

اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے (بھٹی کی آگ سے) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔- |[ متفق عليه – صحيح البخاري، كتاب الذبائح والصيد : ❪٥٥٣٤/٤٤٢❫، صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب : ❪٦٦٩٢/٢٦٢٨❫ ]|

فوائد : مٹی بھی اگر چار دن گلاب کے نیچے رہے تو اس سے بھی خوشبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اچھے اور برے ساتھی کا آدمی کی طبیعت اور تربیت پر گہرا اثر ہوتا ہے، نیک لوگوں سے دوستی اور تعلق رکھنے والا چاہے کتنا بے عمل کیوں نہ ہو اس کے لیے بالآخر نیکی کی منزل آسان ہوجاتی ہے۔ اور وہ آہستہ آہستہ بذات خود باعمل اور نیک سیرت انسان بن جاتا ہے اور اگر وہ پہلے سے نیک ہو تو صالحین کی دوستی سے نیکی میں مزید پختگی اور رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ الله نہ کرے اگر چاروں طرف بے عمل یا بدعمل دوستوں کا گھیرا ہو تو آدمی ساری زندگی برائی کی دلدل میں دھنسا رہتا ہے۔ اور باہر نکلنے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ بالآخر ایسا شخص ساری زندگی ہدایت سے محروم رہتا ہے اور عذاب الٰہی کی پکڑ میں آ جاتا ہے۔

آج ہی غور فرمائیں ۔ ! آپ کا دوست نمازی ہے یا بے نماز؟ حلال کھاتا ہے یا حرام؟ شیطان کا دوست ہے یا رحمان کا فرمانبردار؟ دنیا کا حریص ہے یا آخرت کا فکرمند؟ اگر آپ کا دوست نمازی، حلال خور، رحمٰن کا فرمانبردار اور اپنی آخرت کا فکر مند ہے تو یقینا ایسا دوست ہی پکا اور سچا دوست ہے جو جنت میں بھی ساتھ ہی رہے گا۔ بصورت دیگر بدعمل دوست حقیقت میں بدترین دشمن سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ کیونکہ بدترین دشمن تو موقع ملنے پر کبھی کبھار نقصان کرتا ہے جبکہ پہلو میں رہنے والا بدعمل دوست ہمیشہ دینی اور اخروی زندگی کا نقصان کرتا ہے۔

|[ الصحيحة : ❪٨٩/١❫، مکتبہ قدوسیہ ]|

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: