امانت داری کی انوکھی مثال

ان کا نام مبارک تھا،وہ ایک باغ میں عرصہ سے بطور پہرے دار کام کر رہے تھے ۔ایک دن اس باغ کا مالک اپنے چند مہمانوں کے ساتھ باغ میں آیا اور حکم دیا،مبارک! مہمان آئے ہیں،کچھ میٹھے انار توڑ کر لاؤ اور ان کو مہمانوں کی خدمت میں پیش کرو۔وہ چند منٹوں میں انار توڑ کر لایا،مالک نے ایک انار توڑا۔ اس کو چکھا تو سخت کھٹا تھا۔دوسرے کو توڑا وہ بھی کھٹا تھا۔ مبارک کو آواز دی۔ھم نے تمہیں میٹھے انار لانے کو کہا تھا، تم کھٹےانار لے آئے۔وہ دوبارہ گئے اور انار لے آئے۔مالک نے ان کو توڑا تو وہ بھی کھٹے نکلے۔مالک سخت ناراض ھوا۔تم اتنے سالوں سے اس باغ میں کام کر رھے ہو۔تمہیں آج تک کھٹے اور میٹھے انار میں تمیز نہیں ھے۔

مبارک نے عرض کیا”آقابلاشبہ میں کھٹے اور میٹھے اناروں میں تمیز نہیں کر سکتا۔میں نے آج تک اس باغ کا کوئی انار کھایا ہی نہیں ھے تو پھر کھٹے اور میٹھے میں تمیز کیسی؟”۔مالک نے جب ان کا جواب سُنا تو سناٹے میں آگیا۔کہنےلگا:”مبارک! تم نے کیوں نہیں کھائے”؟مبارک بولے:”آپ نے باغ کی رکھوالی میرے سپرد کی تھی،اس کا پھل کھانے کی اجازت نہیں دی تھی۔باغ کے مالک نے جب ان کا جواب سُنا تو نہایت متعجب ھوا۔مبارک کے تقویٰ اور امانت داری پر مہمان ششدررہ گئے۔باغ کے مالک کی بیٹی جوان تھی اور وہ اس کے لیے موزوں رشتے کا متلاشی تھا۔اچانک اس کے ذہن میں آیا کہ میری بیٹی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی شخص موزوں نہیں ھو سکتا۔اس نے مبارک سے کہا اگر میں تمہیں اپنا داماد بنا لوں تو تمہارا کیا خیال ہے۔ انہوں نے کہا :یہود شادی کے لیے لڑکی کی مالداری کو ،عیسائی خوبصورتی کو اور اُمت، محمدیہ کے لوگ تقویٰ اور دینداری کو معیار ٹھہراتے ھیں۔

مالک نے ان کا جواب سُنا تو مزید متاثر ھوا۔گھر آکر اپنی اہلیہ سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا کہ بلاشبہ مجھے بھی اپنی بیٹی کے لیے مبارک سے بہتر کوئی رشتہ نظر نہیں آتا۔یوں مبارک کی شادی اس باغ کے مالک کی بیٹی سے ھو گئی اور پھر اس مبارک جوڑے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی برکت سے نوازہ۔ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ھوا۔اس کا نام انہوں نے عبداللہ رکھا۔ جو بڑے مشہور محدث ھوئے اور جنہوں نے اپنے علم سے ایک جہان کو منورہ کیا۔دنیا ان کو امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: