مسئلہ فلسطین – حنا سھیل‎

مگر یہ راز کھل گیا سارے زمانے پر – حمیت نام تھا جس کا گئ تیمور کے گھر سے

علامہ اقبال نے یہ شعر غلام قادر روہیلہ کے واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے جب مغل بادشاہ شاہ عالم کی آنکھیں نکال لیں اور اس کی بیٹیوں کو حکم ہوا کہ ناچیں، بابر اور تیمور کے خاندان کے شہزادیاں لال قلعے میں جس طرح سے ناچ رہی تھی غلام قادر روہیلہ کو حیا آگئی اور اس نے اپنا خنجر و تلوار ایک طرف رکھ کر آنکھیں بند کر لیں جیسے کہ وہ سو گیا ہے تھوڑی دیر بعد اٹھا اور اس نے شہزادیوں سے کہا کہ اس نے یہ اس لیےرکھی تھی کہ تم میں سے کوئی میری آنکھیں نکال لے ، مگر افسوس آج تیمور کے گھر سے حمیت کا جنازہ بھی اٹھ گیا ،!یہ ہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے کہ ہماری عزت اور غیرت کہیں سو گئ ہے ہمارا ضمیر نہیں جاگتا جب ہم دیکھتے ہیں کہ معصوم بچے یتیم ہو رہے ہیں لڑکیوں کو اسرائیلی اپنے گھٹنے کے نہچے دبوچے ہوئے ہیں ہم فٹافٹ تصویریں فارورڈ کرنا شروع کردیتے ہیں ہم کیسی مسلمان قوم ہیں کہ میزائل اور ہتھیار خرید کر انھیں اپنے ہی بھائیوں پر چلاتے ہیں ؟ کیسے مسلمان ہیں کہ جسم کے ایک حصہ کو تکلیف ہورہی ہے تڑپ رہا ہے مگر جسم کا دوسرا حصہ سن ہے کیونکہ ہمارے اندر حس ختم ہوگئی ہے اور ہمیں بے حس کرنے کا کام آہستہ آہستہ کیا گیا ہے ، وقتاً فوقتاً چیک کیا گیا کبھی ناموسِ رسالت پر حملے کرکے کبھی قرآن کی بے ادبی کرکے ، مگر کوئی مضبوط جواب نہیں ملا مسلمانوں کی طرف سے ، ایک مذمتی بیان اجاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک مسلمان کی عزت کعبہ کی عزت سے بڑھ کر ہے ، _

ہماری بے بسی کا یہ حال ہے کہ چیخ چیخ کر دعائیں کرتے ہیں ، بغیر تدبیر کے بھی کبھی دعائیں قبول ہوئ ہیں ، ہم میلاد میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہی یا اللہ ہمیں خالدبن ولید سا رہنما دے خولہ جیسی بیٹی دے ، ہم خود کیوں نہیں آپنی اولاد کو ام عمارہ اور خالد بن ولید بنانے کی کوشش کرتے کیوں نہیں ہمارے اندر محمد بن قاسم پیدا ہوتے ہیں زرا اُٹھائیں ان ماؤں کی کہانیاں اور پڑھیں کہ کیسی تربیت کی تھی ، ہمارے بچوں کو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ یہ کون لوگ تھے ، زرا سوچیں اگر کل یہ وقت جو فلسطین پر آیا ہے ہمارے اوپر اجائے تو کیا ہوگا ، ہم کہتے ہیں کہ ہماری فوج ہے نا ہم اس کو پال پوس رہےہیں ہیں حفاظت کے لیے ، ہماری فوج ایک اسلامی فوج بھی تو پے جس کا موٹو ہے جہاد فی سبیل اللہ، ،،،،،،بحثیت مسلمان ہمیں آج اپنے سارے مسلمان بھائیوں کے لئے کھڑا ہونا چاہئیے ہر سطح پر حکومتی سطح پر عوامی سطح پر اور بین الاقوامی فورمز پر بھی ، اللہ کو جواب دینا ہے کہیں یہ مسلمان بھائی تکلیف میں تھے تو ہم کیا کر رہے تھے ،
علامہ اقبال سالوں پہلے کہ گئے ہیں
مسلم ہیں ہم سارا جہاں ہمارا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: