درود شریف کی برکت

حضرت سید محمد بن سلیمان جزولی ایک بزرگ گزرے هیں وه ایک مرتبہ کہیں تشریف لے گئے اور وہاں نماز کا وقت هو گیا . آپ نے دیکھا که وہاں کنواں تو موجود هے لیکن کوئی ڈول یا رسی وغیرہ موجود نہیں .

فرماتے هیں میں اسی فکر میں تھا که ساتھ والے مکان سے ایک بچی نے باهر جهانکا اور پوچھا که آپ کیا تلاش کر رهے هیں ؟ میں نے کہا بیٹی میں نے وضو کرنا هے لیکن پانی نکالنے کا کوئی ذریعہ نہیں .اسنے پوچھا آپکا نام کیا هے ؟ میں نے کہا مجھے محمد بن سلیمان جزولی کہتے هیں . بچی بولی اچھا آپ وه سلیمان هیں جن کو سب جانتے هیں اور آپ هیں که کنوئیں سے پانی نہیں نکال سکتے ؟ یه کہیں کر اس بچی نے اپنا لعاب دھن پانی میں ڈال دیا تو آنا فانا پانی کناروں تک آ گیا . میں نے اس بچی سے قسم دیکر پوچھا که تجھے یه مرتبہ کیسے ملا ؟ تو اسنے کہا که یه سب جو آپ نے دیکھا یه درود پاک پڑھنےکی وجه سے هے . یه سن کر میں نے عہد کیا که درود پاک کے متعلق کتاب لکھوں گا . پھر حضرت محمد بن سلیمان نے درود پاک کے متعلق کتاب لکھی جو دلائل الخیرات کے نام سے مشہور هے .(بحواله سعادت الدارین)اور اسکے بعد آپ نے درود پاک کو اپنا ورد بنا لیا اور آپ کے متعلق مشہور هے که آپکی قبر سے کستوری کی خوشبو آیا کرتی تھی .آپ کے وصال کے ستتر سال بعد آپکے جسد خاکی کو سوس سے مراکش منتقل کیا گیا تو آپکا جسم ویسے هی تروتازه پایا گیا حتی که آپکا کفن بھی بوسیدہ نہیں هوا تها . وصال سے قبل آپ نے خط بنوایا تھا جو تروتازه تھا . حتی که کسی نے آزمائش کیلئے آپکے رخسار پر انگلی رکھ کر دبایا تو وه جگه سفید هو گئی اور تھوڑی دیر بعد پھر سرخ هو گئی جیسے زندوں کے جسم میں خون کی روانی کے باعث هوتا هے . یه سب درود پاک کے سبب هے .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: