عید الفطر اور ماہ شوال کے روزے

ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے اور ماہ ذوالحجہ کی دس تاریخ کو عید قربان ہوتی ہے ان ہر دو ایام میں اہل اسلام سی آئی ڈی یو ہوتی ہے کہ عیدالفطر سے قبل انہوں نے روزے رکھ لیئے ہوتے ہیں تو اب عید ہوگی حج سےفارغ ہوئے تو عید الاضحی منالی ان دونوں دنوں میں عیدین کے ایام میں مسلمان اللہ کی عبادت کیا کرتے ہیں عید الفطر کے بعد بھی چھ دنوں کے روزے رکھے جاتے ہیں اور زیارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار ہوتے ہیں اللہ ایسے ہی کرے یہ ہر سال میں ہوتا رہے اس میں اللہ کی جانب سے کثرت سے انعامات فرمائے جاتے ہیں۔

لہذا مسلمانوں کو اس کا نہایت شوق اور اس پر خوشی ہوتی ہے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بار بار عید آئے۔2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول بار عید الفطر کی نماز پڑھی تھی اس کے بعد کبھی نہ چھوڑیں بس عید کی نماز سنت مؤکدہ ہوگئی۔ حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں کہ اپنی عیدوں کو تکبیروں سے سجاؤ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جس شخص نے یہ وظیفہ روز عید تین صد بار پڑھ لیا۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔ پاک ہےاللہ اور اس کی حمد ہے۔ اور اس کا ثواب تمام مسلمانوں کو اس نے بخش دیا تو ان میں سے ہر ایک کی قبر میں ایک ہزار نور داخل ہوں گے اور یہ آدمی خود جس وقت وفات پائے گا اس کی قبر کے اندر بھی ایک ہزار انوار اللہ داخل فرمائے گا۔ حضرت وہب بن منبہ راوی ہے کہ ہر عید کے روز ابلیس چلا چلا کر گریہ کرتا ہے تو دیگر شیاطین اس کے ارد گرد آ کر جمع ہو جاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں کہ اے ہمارے سردار آپ کیوں پریشان ہیں وہ جواب دیتا ہے کہ اس روز اللہ نے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی مغفرت فرما دی ہے۔ لہذا تمہارے لیے اب ضروری ہو چکا ہے کہ ان کو شہوت اور لذت میں مبتلا کرکے غفلت شعار بنا دو۔ اور حضرت وہب بن منبہ ہی راوی ہیں کہ عید الفطر والے دن ہی اللہ نے جنت تخلیق فرمائیں اور اس کے اندر طوبی کا شجر کاشت کیا اور عیدالفطر کے روز اول مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر اترے اورعیدالفطر کے روز ہی فرعون کے ساحروں کی توبہ قبول فرمائ گئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے عید کی شب میں اپنے محاسبہ کے ساتھ جو رات کا قیام کرے اس روز اس کا دل مردہ نہ ہوگا جس روز دل مریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: