روزہ اور چار آیام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے عرفہ کے دن کا روزہ دو برس کے روزوں کے برابر ہوتا ہے اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک برس کے روزوں کے مساوی ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے۔( اور ہم نے وعدہ فرمایا موسی کے ساتھ تیس راتوں کا اور اس کی تکمیل 10 کے ساتھ فرمائی)۔اس آیت کی وضاحت میں اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ یہ ماہ ذیالحجہ ہی کے اولین 10روز ہیں جو ذکر کیے گئے ہیں۔حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ اللہ ایام میں سے چار ایام اور مہینوں میں سے چار مہینے اور عورتوں میں سے چار عورتیں اور جنت میں اولیت کرنے والے چار اور جن کا اشتیاق جنت رکھتی ہے ان میں سے بھی چار کا انتخاب کیا ہے۔

1۔ جمعہ کا روز۔ 2۔ یوم عرفہ۔ 3۔ یوم النحر یہ عید الاضحی کا دن ہے۔ 4۔ یوم الفطر یہ عید الفطر والا روز ہے۔ چار مہینے ہیں۔ 1۔ رجب۔ 2۔ ذوالقعدہ۔ 3۔ ذوالحجہ۔ 4۔ محرم۔ اور منتخب شدہ عورتیں یہ ہیں۔ 1۔ حضرت مریم بنت عمران 2۔ حضرت خدیجہ بنت خویلد 3۔ حضرت آسیہ بنت مزاحم۔ فرعون کی بیوی 4۔ حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ جنت کی عورتوں کی سردار جنت کی جانب پہل کرنے والے چار اشخاص ۔ 1۔ عرب لوگوں میں جناب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم 2۔ اہل فارس میں سے حضرت سلمان فارسی 3۔ اہل روم میں سے حضرت صہیب رومی 4۔ اہل حبشہ میں سے حضرت بلال اور جنت مندرجہ ذیل چار حضرات کی مشتاق ہے۔ 1۔ حضرت علی 2۔ حضرت سلمان فارسی 3۔ حضرت عمار بن یاسر 4۔ حضرت مقداد بن اسود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے آٹھ ذوالحجہ کو جو شخص روزہ رکھے اس کو اللہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اپنی ابتلاء کے وقت صبر کرنے کی مانند اجر عطا فرمائے گا اور جو عرفہ کے دن روزہ رکھ لے اسے اللہ حضرت عیسی کے ثواب جتنا ثواب عطا فرمائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دن دو عیدوں کے درمیان ہیں جبکہ دونوں ہی عیدیں اہل اسلام کے لئے خوشی کے دن ہوتے ہیں اور گناہ معاف ہو جانے کی خوشی سے بڑی اور کوئی خوشی نہیں ہوتی اور عاشورہ کا روزہ عیدین کے بعد آتا ہے تو یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دن حضرت موسی علیہ السلام کے واسطے تھا جبکہ یوم عرفہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ہے اور آپ کی عظمت اور عزت سب سے بڑھ کر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: