مہمانوں کے کیسا رویہ ہونا چاہیے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مہمان کے معاملہ میں تکلف مت کرو کے کہ تم اس کے ساتھ بغض کرو کیوں کہ مہمان سے جو متفر ہوا وہ اللہ سے متفر ہو گیا جس نے اللہ سے نفرت کی اس سے اللہ بھی متفر ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہاس میں کچھ خیر نہیں جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے شخص پر گزرے جو بہت سے اونٹ اور گائے رکھتا تھا مگر اس نے آپ کی مہمانی سے اجتناب کیا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت کے پاس ہوا جو چند بکریاں رکھتی تھی آپ کے لیے اس نے بکری ذبح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی جانب دیکھو یہ اخلاق اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔حضرت ابو رافع نے فرمایا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ فلاں یہودی ہے اسے جا کر کہو میرے پاس مہمان آیا ہوا ہے مجھے کچھ آٹا ادھار دے دے ماہ رجب تک۔ وہ یہودی کہنے لگا واللہ میں آٹا ادھار ہرگز نہ دوں گا کچھ گروی رکھے بغیر میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیں تو آپ نے فرمایا تھا میں امانت دار و آسمان میں میں امین ہوں زمین میں اگر وہ مجھے دے دیتا تو لازمی ادا کر دیتا اب میری ذرہ لے جا اور اسکے ہاتھ گروی رکھ دے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جس وقت کھانا تناول کرنے کا ارادہ ہوتا تھا تو ساتھ کھانے والے کی تلاش میں کبھی کبھی ایک ایک دو دو میل تک چلے جاتے تھے لوگوں میں ابو الضیفان پکارے جاتے تھے۔ اور ان کے خلوص نیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ کے مشہد یعنی مکہ میں تاہنوز ضیافت ہوتی رہتی ہے ہر شب کو ان کے پاس تین سے دس تک مہمان موجود ہوتے تھے اور ایک ایک صد مہمان بھی ہوا کرتے تھے یہاں پر موجود نگران کا کہنا تھا کہ کبھی کوئی ایک رات بھی بغیر مہمان کے نہیں گزری۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: