میں ایک ماں ہوں۔ ام ہادی

میں وہ ہوں جس کا ایک بچہ ہے اور وہ بھی جس کے زیادہ بچے ہیں۔ میں وہ بھی ہوں جو اکیلی رہ کر گھر شوہر اور بچوں کو دیکھتی ہوں اور وہ بھی ہوں جو بڑے سے خاندان میں بہت سے افراد کے ساتھ رہتی ہوں۔

میں وہ بھی ہوں جو اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنی زمہ داریاں نبھا رہی ہوں اور وہ بھی ہوں جو کسی سانحے کے بعد اکیلی اپنے بچوں کے لیے ماں اور باپ بن گئی ہوں۔ میں وہ بھی ہوں جو نو ماہ کی مشقت اور پھر پیدائش کی تکلیف اٹھا کر ماں بنی اور وہ بھی ہوں جس نے انھیں اپنی کوکھ سے پیدا تو نہیں کیا مگر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کبھی بھانجوں بھتیجوں کی ماں بنی تو کبھی ہمسائے کے بچوں پر مامتا لٹائی ۔ میں وہ ماں بھی ہوں جو بچوں کے بعد خود کو اور اپنی ذات کو بھول گئی۔ وہ نہ رہی جو کبھی تھی اور اس پر سب کی تنقید اور نقطہ چینی سہتی ہوں اور وہ بھی ہوں جو بچوں کے ساتھ بھی خود کے لیے کچھ وقت نکالتی ہوں، خود کو کھونے نہیں دیتی ۔ اپنے نفس، اپنی جان کا حق ادا کرنے کی کوشش بھی کرتی ہوں نتیجتاً لوگوں کے تنقیدی جملے اور چبھتی نظریں سہتی ہوں۔ میں وہ بھی ہوں کہ چوبیس گھنٹوں کے لیے جس کی زندگی کا محور اس کے بچے ہیں، میرے دن رات کے معمولات، میرا سونا جاگنا، کھانا پینا، آنا جانا، گھر کے کام کاج سب میرے بچوں کے گرد گھومتا ہے۔ میں وہ بھی ہوں جو پورا دن گھر میں رہ کر سب کے کام کرتے، فرمائشیں اور ضروریات پوری کرتے، بچوں کو پیچھے پیچھے پھرتا، اپنی توجہ کے لیے ترستا دیکھتی ہوں، چھوٹے بچے کو گود میں آنے کے لیے مچلتا دیکھتی ہوں اور جھلاہٹ کبھی برتنوں پر نکالتی ہوں تو کبھی خود پر۔

اپنے لاپروا ماں ہونے کےبارے میں تبصرے سنتی ہوں ۔ میں وہ ہوں جو پورا دن روزہ رکھ کر اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہوں اور میں وہ بھی ہوں جو چھوٹے بچے کو اپنا دودھ پلانے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ پانے پر گِلٹ کا شکار رہتی ہوں۔ مگر اپنے بچے کی خاطر ان بابرکت دنوں کی بنیادی عبادت نہ کر پانے کی قربانی دیتی ہوں ۔ میں وہ بھی ہوں جو صبح کام کے لیے گھر سے نکلتی ہوں اور شام کو واپس آتی ہوں۔ وہاں میں بہت اعلیٰ عہدے پر ہوں یا کوئی معمولی خدمت گار، میرا دھیان میرے بچوں میں ہی رہتا ہے اور نظریں گھڑی پر۔ گھر آتے ہی سب سے پہلے میں انھیں ہی دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے اچھی اور زمہ دار ماں نہ ہونے کے بارے میں سب کی باتیں اور تبصرے سنتی ہوں ۔ میں ایک ماں ہوں ۔ لوگ مجھے میرے ہر کردار میں ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مجھے جج کرتے ہیں۔ بطور ماں میری خامیوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ مجھے کوئی عذر دینے کو تیار نہیں۔ کبھی کبھی ان سب کی طرح مجھے بھی لگتا ہے کہ میں بطور ماں ایک ناکام عورت ہوں۔ مگر نہیں۔۔۔۔ ایسا نہیں ہے ۔ اپنے بچوں کی دیکھ بھال ، ان کے لیے دی گئی قربانیاں، ان کی تربیت کے لیے کی جانے والی کوششیں مجھے بتاتی ہیں کہ میں ناکام ماں نہیں ہوں ۔

جب میں نماز کے بعد رب سے اپنے بچوں کے لیے ہدایت اور دنیا و آخرت کی کامیابی و بھلائی مانگتی ہوں تو میں جان جاتی ہوں کہ میں ناکام ماں نہیں ہوں۔ جب میرا بچہ ہر دکھ ، تکلیف، الجھن، پریشانی یہاں تک کہ معمولی سی خراش پر میرے گلے سے آ لگتا ہے تو میں جان جاتی ہوں کہ میں ناکام ماں نہیں ہوں۔ میرے بچوں کی مجھے بتائی جانے والی ہر ہر بات، اپنے ساتھیوں اور سکول سے متعلق سنایا جانے والا ہر ہر قصہ ، دوستوں کے ساتھ ہونے والے ہر جھگڑے کی تفصیل کہہ ڈالنا مجھے بتاتا ہے کہ میں ناکام ماں نہیں ہوں ۔ میرے پیچھے پیچھے پھرتے میرے کام ختم ہونے کا انتظار کرتے میرے بچے کا میرے گود میں لیتے ہی آسودگی سے سو جانا مجھے بتاتا ہے کہ میں ناکام ماں نہیں ہوں۔ کام سے گھر آتے ہی مجھے دیکھ کر میرے بچے کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک مجھے بتاتی ہے کہ میں ناکام ماں نہیں ہوں۔ ہاں میں مانتی ہوں میں انسان ہوں۔ مجھ میں کمیاں ہیں۔ مجھ سے کوتاہیاں بھی ہو جاتی ہیں مگر میری یہ کمیاں اور کوتاہیاں مجھے بری یا ناکام ماں نہیں ، صرف انسان ثابت کرتی ہیں ۔ اور آخری بات، میں دنیا کی نظر میں جتنی بھی ناکام اور عام سہی، میرے پکارنے پر میرے بچے کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ ، میرا چہرہ دیکھتے ہی اس کا خوشی سے کھِل اٹھنا مجھے یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ میں کس قدر کامیاب اور خاص عورت ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: