ابو بکر صدیق اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ

ایک روایت ہے کہ ابو بکر صدیق کو جب آگاہی ہوئی تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان مبارک پر حاضر ہوئے۔ آپ آنحضرت پر صلوۃ و سلام عرض کر رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ہچکیاں بھیلیتے تھے جس طرح کے پانی گھڑے سے چھلک جائے باوجود ایسی حالت میں ہونے کے وہ اپنے قول و فعل میں مستحکم تھے اور حوصلے کو ظاہر کر رہے تھے آنحضرت پر پھر آپ جھک گئے آنحضور کے چہرے مبارک کو کھولا آنحضور کی پیشانی پر اور رخساروں پر بوسہ لیا اور آنحضور کے چہرہ مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرتے تھے کہ اچانک رو پڑے اور کہنے لگے میرے ماں باپ اور میرے اہل و عیال اور میری جان سب آپ پر فدا ہوں۔

آپ اپنی زندگی میں اور اپنی وفات میں ہر حال میں ہی خوش رہے آپ کے وصال سے اب سلسلہ وحی ختم ہو چکا جو آپ سے قبل کے کسی نبی کے فوت ہونے پر نہیں ہوا تھا آپ عظیم ہیں بلحاظ ہر وصف اور آپ رونے دھونے سے بھی بالاتر ہے آپ ایسے خصائص کے حامل ہے یہاں تک کہ اس وقت آپ سکون میں ہیں اور محفوظ ہو چکے ہیں اور ہم آپ کے بارے میں راضی برضا ہیں اگر آپ نے اپنی وفات کو پسند نہ فرمایا ہوا ہوتا تو آپ کے غم میں ہم سب اپنی جانوں کو حاضر کر دیتے اور اگر ہمیں رونے سے آپ نے ممانعت فرمائی ہوتی تو پانی کے چشمے ہم نے آپ کے لئے بہا دیے ہوتے اور جس چیز کی ہمیں تاب حاصل نہیں یعنی غم اور آپ حضور کی یاد تو یہ کبھی ہم سے دور نہ ہو گے یا الہی ہماری اس بات کو آنحضور تک پہنچا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب تعالیٰ سے ہماری شفاعت فرما دیں ہمیں بھی اب اپنی یاد میں رکھیں اگر آپ ہمارے لئے سکون اور اطمینان نہ چھوڑ گئے ہوئے ہوتے تو ہم میں کوئی مغموم ہونے کے باعث اپنے پاؤں پر کھڑا رہنے کی تاب نہ رکھتا اے اللہ ہماری جانب سے اپنے نبی کے حضور ہماری اس بات کو پہنچا دے اور ہم میں اس کو محفوظ رکھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: