آفت اور نماز

آنحضرت پر جس وقت بیہوشی طاری ہوئی تھی تو آپ فرماتے تھے رفیق الاعلی آپ جس وقت بات کرنے کے قابل ہوئے تو آپ نے فرمایا نماز نماز تمام لوگ جس وقت اس کے ساتھ رہو گے تم سلامت رہو گے حضور اپنےوصال تک اسی طرح فرماتے رہے نماز نماز۔ جناب سیدہ عائشہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال چاشت اور دوپہر کے درمیان بروز پیر ہوا۔

جناب سیدہ فاطمہ نے فرمایا ہے واللہ میں نے دیکھا ہے کہ پیر کے روز کوئی نہ کوئی آفت اس امت پر وارد ہوئی ہے اور یا حضرت ام کلثوم نے فرمایا ہے کہ جس روز کوفہ کے اندر حضرت علی پر حملہ کیا گیا تھا وہ پیر کا دن تھا پیر کے روز کوئی نہ کوئی آفت وارد ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن میں زوال پذیر ہوئے حضرت علی اسی روز شہید ہوۓ۔حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے پر لوگوں کا ایک ہجوم وہاں پر اکٹھا ہوگیا اور رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے کپڑے سے ملائکہ نے ڈھانپا ہوا تھا مسلمان آپس میں اختلاف کرنے لگے کوئی کہتا تھا حضور نے وفات نہیں پائی اور کچھ صحابہ کے غم سے ان کی زبانیں گنگ ہو گئی تھی اور وہ کافی دیر کے بعد بات کر سکتے تھے پس مسلمانوں پر مختلف قسم کی حالتیں تھی۔ حضرت عمر بن حطاب آنحضرت کے وصال پانے کا انکار کرتے تھے حضرت علی بوجہ شدید غم نیچے بیٹھ گئے عثمان کی زبان بوجہ غم بند تھی۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عباس اپنے آپ کے قابو میں ہی تھے۔

لوگ حضرت ابوبکر کی بات سے لاپرواہ تھے بالآخر حضرت عباس آئے اور فرمایا قسم ہے اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود موجود ہوتے ہوئے یہ آیہ کریمہ سنائی تھی۔( بلاشبہ تم فوت والے ہو اور بے شک انہوں نے بھی مرنا ہے پھر بلاشبہ تم اپنے رب کے پاس روز قیامت جھگڑا کرو گے)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: