اسرائیل کون سی جنگ ہارا

ان دنوں پاکستان میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ حالیہ جنگ میں حماس یا فلسطین نے کچھ حاصل کیا یا نہیں؟آئیے ہم آپ کو یہ دیکھنے کا اصل زاویہ دکھا ئیں۔بات یہ ہے کہ ستر سال میں اسرائیل نے مغرب میں اپنا برانڈ یا سادہ لفظوں میں امیج صرف ایک نکتے پر بنایا تھا۔”ہم مظلوم ہیں”70 سال میں اس مظلومیت پر بے شمار فلمیں بنیں درجنوں کتابیں لکھی گئیں اور ہزاروں پروگرام ہوئے۔بالآخر مغربی رائے عامہ کو یقین آ گیا کہ اسرائیل دنیا کی مظلوم ترین قوم ہےاور کچھ اتنا یقین کہ اسرائیل مخالف ہونا ہی گویا ظالم ہونے کی علامت قرار پا گیا سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اور راوی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک اس مظلومیت کے قلعے میں دراڑ پڑ گئی۔

وہ کیسے؟ وہ اس طرح کہ اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر مظالم تو ہمیشہ سے کرتا رہا تھا لیکن مغربی عوام تک کبھی وہ مظالم کی وہ داستانیں پہنچ نہیں سکیں تھیں۔ اور پہنچی بھی تھیں تو مضامین اور بیانات کی صورت میں ۔ جن کا تاثر بھی گہرا نہیں ہوتا تھا اور جن کو رد کرنا بھی آسان ہوتا تھا ۔اس دفعہ البتہ معاملہ مختلف رہا۔اس دفعہ لوگوں کو اپنی موبائل سکرینز سے شیر خوار بچوں کا لہو ٹپکتا نظر آیا۔مغرب کے لوگوں نے سارے مناظر دیکھیے اور اسی دلسوزی کے ساتھ جیسے ہم نے اور آپ نے۔یوں چند دن میں اسرائیل مظلوم سے ظالم بن گیا۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کو مغرب میں جگہ جگہ اعلانیہ طور پر ظالم کہا گیا اور سنا گیا جبکہ غزہ کو مظلوم کہا گیا۔ یاد رکھیے کہ مغربی دنیا میں مظلوم ہونے کا مطلب کمزور ہونا نہیں بلکہ حق پر ہونا ہے۔ جب تک اسرائیل مظلوم تھا حق پر تھا اب جب وہ مظلوم نہیں رہا تو کیا وہ حق پر ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو مغرب میں لوگوں نے پوچھا اور خود ہی اس کا جواب سمجھ لیا کیونکہ سوشل میڈیا پر ابھرنے والی لہو رنگ تصویریں زبان حال سے کہہ رہی تھیں۔” ہم مظلوم ہیں’
یہی وہ تاثر اور امیج کی جنگ تھی جس میں اسرائیل ہار گیا اور فلسطین جیت گیا ۔

اب ظالم سے مظلوم بن جانے کے بعد اسرائیل کا مغربی عوام میں پہلے جیسا اثر رسوخ آسان نہیں۔ہمت کی جائے تو یہاں سے الٹی گنتی شروع ہو سکتی ہے۔ایک مرتبہ بات بگڑی تو پھر لوگوں کو وہ سارے ناول اور کہانیاں یاد آنے میں دیر نہیں لگے گی جو ایک آدھ صدی پرانے مغربی ناول نگاروں نے یہودیوں کی مکاری چالاکی اور سفاکی کے خلاف لکھے تھے اور اب بھی یورپ کی ہر لائبریری کے شیلفس میں موجود ہیں۔۔ستر سال کے تاثر کو ایک ہفتے میں مٹا سکنے کا امکان پیدا کر دینا ہی اس جنگ کا اصل کمال ہےاس جنگ میں غیرمعمولی سوشل میڈیا سٹریٹجی کا استعمال ہوا جس کی تفصیلات الگ ہیں۔۔۔لیکن اس جیت کو سوشل میڈیا کے ڈیٹا سے ثابت تو کیا ہی جا سکتا ہے بلکہ لوگوں کو یہ کام کرنا چاہیے۔تاکہ اب جب آپ سے کوئی اس جنگ میں ہار اور جیت کا سوال کرے تو آپ اس کو زبانی کلامی دلائل نہیں نمبرز دکھا سکیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: