ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

گوگل پر حماس کے متعلق کچھ معلومات جاننے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ دنیا کے کئ طاقتور ممالک کی طرف سے اس تنظیم کو دہشتگرد تنظیم کا خطاب دیا گیا ہے۔اسی طرح ایک یہودی پبلک فیگر کی فیس بک پروفائل نگاہ سے گزری تو وہاں بھی مسلمانوں کیلئے terrorist جیسے الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔غرض کہ اسرائیل کے ہمنوائوں اور مداح سراؤں نے بڑھ چڑھ کر مسلمانوں اور آجکل بالخصوص فلسطینی مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔اس بات پر بے اختیار ایک شعر یاد آیا

؎ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام ۔ وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ظالم کی ہمیشہ سے یہ ادا نرالی رہی ہے کے وہ مخالف فریق کو غلط ثابت کرنے کیلئے اور اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کیلئے مظلومیت کا رونا روتا ہے اور ہر ممکن حربے استعمال کرکے مخالف فریق پر کیچڑ اچھالتا ہے۔ویسے بھی یہ بات تو ثابت ہے کہ جب آپ کا دفاع کمزور ہو تو اس سے پہلے کہ کوئی آپ کی ذات کے ناشائستہ پہلوؤں پر غور کر پائے سامنے والے پر چڑھائی کردو۔ اس طرح سامنے والے کو خود کو مظلوم ثابت کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا اور الٹا وہ اپنے دفاع کیلئے ہاتھ پیر مارنے لگے گا ۔ انسانوں کی دنیا میں یہ حربہ کافی کارگر ثابت ہوتا ہے اور ۷۰ % مجرم صرف اس چال کی بناء پر بری قرار پاتے ہیں تو یہی کچھ معاملہ یہاں بھی ہے۔ ویسے تو ایک عقل رکھنے والے شخص کیلئے موجودہ دنیا کے حالات ہی یہ واضح کرتے ہیں کہ کون دہشتگرد کی صنف پر پورا اترتا ہے لیکن اگر یہودی اس بات سے کبوتر کی طرح آنگھیں بند کرنا چاہتے ہیں تو اگر اتفاق سے انہوں نے کبھی اپنی مذہبی کتاب کا مطالعہ کیا ہو تو انہیں میرے خیال سے دہشتگردی کے معنی بہتر طریقے سے سمجھ آجائیں گے اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں ۔کتاب استثناء میں ہے: “جب تم کسی شہر کو اس ارادے سے کہ لڑائی کرکے لو، مدت تک محاصرہ کیے رہو تو تیر چلا کر اسکے درختوں کو خراب مت کیجئو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تو ان کا میوہ کھائے۔سو تو انہیں محاصرے کے کام میں لانے کیلئے کاٹ نہ ڈالیں ، کیونکہ میدان کے درخت آدمی کی زندگی ہیں۔”(۲۰-۱۹)“

لیکن ان قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا ہے کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑیو بلکہ تو انہیں حرم کیجئو۔”(۲۰:۱۶-۱۷)لیکن مسئلہ یہی تو ہے کہ انہوں نے حقیقت سے آنکھیں بند کر لی ہیں اور غفلت میں پناہ تلاش کرنے کی کوششوں میں ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نہ
؎اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو ۔ آگہی گر نہیں غفلت سہی
صرف یہی نہیں بلکہ انکی اندھی تقلید کرنے والے بھی اسی صف میں کھڑے ہیں لیکن وہ کیا ہے نہ کہ
؎حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے , کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
کہ جہاں غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے وہاں انہیں غیر مسلموں میں سے کچھ معروف شخصیات صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا ظرف رکھتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان میں کچھ وہ لوگ بھی ضرور ہوں گے جو مانتے تو ہوں گے حقیقت کو مگر کچھ تحفظات کی بناء پر اس بات کا اقرار کرنے سے ڈرتے ہیں۔لیکن انسان جتنی بھی کوششیں کرلے حقیقت کو چھپانے کی مگر حقیقت کبھی بھی زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتی ۔ وہ دن دور نہیں جب غیر مسلم دنیا خود اس حقیقت کا اعتراف کرے گی کیونکہ “تم اپنی چالیں چلو اور میرا رب اپنی چالیں چل رہا ہے اور بیشک بہترین چال تو بالآخر میرے رب ہی کی ہے۔”اس وقت تک کے لئے تم اپنے ہتھیار آزماؤ ہم اپنا ظرف آزماتے ہیں۔
؎ آ ستمگر ہنر آزمائیں . تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: