علم اور علماء

علماء دنیا علماء سوء ہوتے ہیں یعنی برے عالم علم حاصل کرنے سے ان کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں حاصل کریں گے اور اہل جاہ کے پاس ان کے درجات و مراتب ملیں گے۔

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے روز قیامت وہ عالم زیادہ عذاب پائے گا جس کے علم سے اللہ کسی کو فائدہ نہیں دیتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے آدمی اس وقت ہی عالم بنتا ہے جب وہ علم حاصل کرنے کے بعد اس کے مطابق عمل پیرا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے آخر زمانہ میں کچھ جاھل لوگ عبادت کرنے والے ہوں گے اور بعض فاسق علماء بھی ہوں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے اس لئے علم مت سیکھو کہ دیگر عالموں پر فخر کر سکوں اور احمق پر اس کے ذریعہ جنگ و جدال کرو تاکہ لوگوں کے رخ کو تو اپنی جانب موڑسکو جس نے ایسا راز ارتکاب کیا وہ دوزخ میں داخل ہوگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے اپنا کچھ علم پوشیدہ رکھا اس کو روز قیامت اللہ آتشی لگام دے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے تمہارے اوپر مجھے دجال کے قافلوں کا خدشہ ہے عرض کیا گیا کہ وہ کون ہے آنحضرت نے فرمایا عوام کو جو امام گمراہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جس کا علم زیادہ ہو گیا لیکن ہدایت حاصل نہ ہوئی وہ اللہ سے زیادہ دور ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: