قرآن پاک تو تاثیر والا کلام ہے لیکن

ہم میں سے اکثر لوگوں کے دل میں یہ خیال آتا ہوگا کہ قرآن پاک تو تاثیر والا کلام ہے پھر بھی آپکو اثر نہیں ہوتا، آپکی آنکھوں میں آنسو کیوں نہیں آتے اور نا ہی آپکی زندگی بدلتی یے،تو اسکا جواب ایک مثال سے سمجھ لیں۔
جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اسکی کرنیں ساری زمین پہ پڑتی ہیں ۔” مٹی ” سورج کی کرنوں کو جذب کر لیتی ہے،” پانی ” منعکس کر دیتا ہے،۔

” پتھر ” پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔!جبکہ ” ہیرے ” کو اگر سورج کی روشنی میں رکھیں تو یہ نہ صرف خود منور ہوگا بلکہ آس پاس بھی روشی بکھیر دے گالہٰذا جان لیں کے فرق سورج کی کرنوں میں نہیں بلکہ “مٹی”، “پتھر” ، “پانی” ، اور ہیرے کی بناوٹ میں ہے۔انسان کا “دل” بھی ایسا ہی ہے، اگر اس میں “ایمان” ہوگا تو “الله” کے ذکر پہ ضرور دل روشن ہوگا۔ اگر ایمان ہے ہی نہیں تو روشن کیسے ہوگا۔۔؟اللہ کا ذکر صرف انہیں دلوں کو روشن کرتا ہے جن کہ دلوں میں ” ہدایت ” کی تلاش ہو یا ” ایمان ” کا دیا ٹمٹماتا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: