عمر خوب آدمی ہے کاش کہ شب

روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبریل علیہ السلام نے عرض کیا عمر خوب آدمی ہے کاش کہ شب کو وہ نماز ادا کیا کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے آگاہ فرمایا بس اس کے بعد وہ ہمیشہ قیام شب کرنے لگے۔

حضرت نافع نے فرمایا ہے کہ آپ شب کو نماز ادا کرتے تھے اور پھر فرماتے تھے اے نافع کیا سحری ہو چکی ہے میں جواب دیتا کہ نہیں آپ پھر نماز میں کھڑے ہوجاتے تھے پھر آپ فرماتے اے نافع کیا سحری ہوگئی ہے میں بتاتا کہ ہاں تو آپ پھر بیٹھ کر استغفار کرنا شروع کر دیتے تھے یہاں تک کہ فجر ہو جاتی تھی۔حضرت علی نے فرمایا ہے کہ ایک شب کو حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی تناول کی اور وہ رات کا ورد کئے بغیر ہی سو گئے تھے صبح ہوگی اللہ نے وحی فرمائی اے یحیی کیا تو نے میرے گھر سے زیادہ کوئی اچھا گھر پالیا ہے یا کہ میرے پڑوس سے بہتر کوئی پڑوسی تجھے حاصل ہو گیا ہے۔ قسم ہے مجھے اپنی عزت اور جلال کی اگر ایک نظر تو بہشت بریں کو دیکھ پائے تو اس کے شوق میں تیری چربی پگھل کر رہ جائے اور آنسو کے بعد تو پیپ رونے لگے اور نرم کپڑے کے بعد تو چمڑا زیب تن کرنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: