شکم سیر آنکھیں – ریاض علی خٹک

پشتو کی ایک ٹرم ہے “مڑے سترگے” اسکا مفہوم آسودہ یا شکم سیر آنکھیں بنتا ہے. ایک افغانی زمیندار اپنے انگور کے باغات کے بارے میں بتا رہا تھا کسی نے پوچھا اس کی چوکیداری کیسے کرتے ہو.

زمیندار نے کہا وہاں چوکیداری کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ وہاں کے انسان کیا پرندوں کی آنکھیں بھی شکم سیر ہیں. یعنی اتنے باغات ہیں اور کم یا زیادہ ہر ایک کی اپنی فصل ہوتی ہے. فن لینڈ کا رواج منفرد ہے. انکا ماننا ہے فطرت سب کی مشترکہ ہے. اس لئے آپ کہیں بھی کسی کی ملکیتی زمین پر کیمپنگ کر سکتے ہیں. بیریاں چُن سکتے ہیں، واک کر سکتے ہیں بس آپ کو کاٹنے اور کچرا پھیلانا ممنوع ہے. انسانی مزاج ہے قلت یعنی scarcity ہم میں منفی جذبات اور خیالات کو جنم دیتی ہے. جیسے بھوک کیفیت ہے لیکن اگر اس کے مٹانے کو سامان دستیاب نہ ہو تو یہ اخلاق کا جنازہ نکال دیتی ہے. بھوک کا جواز بھوکی آنکھوں کی شرم و حیا چھین لیتا ہے. اچھائی یا برائی کا اپنا سائکل ہوتا ہے. آپ گاوں میں اکیلے باغ لگائیں گے تو اس کی چوبیس گھنٹے چوکیداری کرنی ہوگی جو بظاہر ممکن نہیں. آپ گاوں میں بہت سے لوگوں کو باغ پر قائل کرلیں سب کی زندگی آسان ہو جائے گی. ایسا ہی اچھائی اور برائی میں ہوتا ہے. ہم برائی ختم کرنا چاہتے ہیں. جو بہت مشکل ہوتا ہے. ہمیں اچھائی پر محنت کرنی چاہئے یہ اپنی بہتات پر برائی کو اس قلت سے دوچار کرے گی جہاں اچھائی آنکھ کی شرم و حیا بن جاتی ہے. اچھائی عام کریں، اچھائیاں بیان کریں تاکہ معاشرے کی آنکھیں آسودہ ہو جائیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: