فی الحقیقت محبت

حضرت سفیان نے فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا نام ہی فی الحقیقت محبت ہے اور دیگر ایک بزرگ نے فرمایا ہے کہ دوام ذکر ہی محبت ہے۔ ایک اربزرگ کا قول ہے کہ اپنے محبوب کو ہی ترجیح دیتے رہنے کا نام محبت ہے۔ایک اور بزرگ نے کہا ہے کہ دنیا میں رہنے کو اچھا نہ جاننا محبت ہے۔مندرجہ بالا سب اقوال اصل میں محبت کا نتیجہ ہیں اور اصل میں محبت کو کسی نے بھی بیان نہیں کیا۔ ایک بزرگ نے فرمایا ہے کہ اصل میں محبوب کی جانب سے ایک مفہوم محبت ہے کیونکہ اس کے ادراک سے دل ہو چکا ہوتا ہے اور اس کی تعبیر سے بھی دل عاجز ہوتا ہے۔

حضرت جنید نے فرمایا ہے کہ دنیا کے ساتھ تعلقات رکھنے والے کو اللہ نے محبت سے خالی کردیا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ معاوضہ لیتے ہوئے جو محبت کی جاتی ہے اس کا حال ایسا ہوتا ہے کہ جس وقت معاوضہ ختم ہوجاتا ہے محبت بھی اختتام پذیر ہوئی۔حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا ہے جو شخص اللہ کی محبت بتاتا ہے اسے غیر اللہ کے سامنے اظہار عجز سے بچنا چاہیے۔حضرت شبلی سے لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کو عارف اور محب کی تعریف بتائیں آپ نے فرمایا عارف اگر بات کر دے تو ہلاک ہو جاتا ہے اور محب اگر چپ رہے تو ہلاک ہو جائے گا پھر آپ نے یہ اشعار پڑھے۔اے میرے کرم کرنے والے مالک میرے دل میں تیری محبت جاگزیں ہو گئی ہے میری آنکھوں سے نیند کو دور کر دینے والے تجھے اچھی طرح اس کا علم ہے جو کچھ مجھ پہ گزرتی ہے۔

دیگر ایک شاعر نے یوں کہا ہے۔مجھے تعجب ہوتا ہے اس پر جو کہتا ہے کہ مجھے یاد رہتی ہے میری محبت اور کیا میں فراموش کر دیتا ہوں جو یاد کرو بھولی ہوئی چیز کو جس وقت تجھے میں یاد کرتا ہوں تو مر ہی جاتا ہوں اور پھر زندہ ہوتا ہوں اگر مجھے حسن ظن نہ ہو تو میں زندہ ہی نہ رہ سکوں میں تقدیر کی رو سے زندہ رہتا ہوں اور اپنے اشتیاق سے مرتا ہوں پر تم پر میں کتنی ہی مرتبہ زندہ ہوا ہوں اور کتنی ہی مرتبہ مرا ہوں۔
( میں پیالوں کے پیالے ہی پیا گیا مگر پھر بھی مشروب ختم نہ ہوا اور نہ ہی میں سیر ہوا)۔( کاش کہ میری آنکھوں کا خیال بسا رہے بس اس کو دیکھنے میں اگر میں قصور کروں تو میں اندھا ہی ہو جاؤں)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: