مگر یہ دنیا ہے

ایک روز حضرت رابعہ عدویہ کہنے لگی کون خبر دے گا ہم کو ہمارے محبوب کے بارے میں تو ان کی خادمہ نےعرض کیا گیا ہمارا محبوب ہمارے ساتھ ہی ہے مگر یہ دنیا ہے جو ہمیں ہمارے محبوب سے دور رکھے ہوئے ہے۔

ابن جلاء نے فرمایا ہے حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ سے وحی فرمایا گیا کہ میں جس وقت اپنے بندے کے باطن میں مجھے دکھائی دیتا ہے کہ اس میں نہ دنیا کی حب ہے اور نہ آخرت کی محبت تو میں اس کا دل محبت سے پر کر دیتا ہوں اور اس کو اپنی حفاظت میں رکھ لیتا ہوں۔ اور نقل کیا گیا ہے ایک روز حضرت سمنون نے محبت کے متعلق بات کی تو اچانک ایک پرندہ سامنے آیا اور وہ گر پڑا اور اپنی چونچ کے ساتھ زمین کو کریدتا رہا یہاں تک کہ اس کا خون نکل آیا اور پھر وہ مر گیا۔حضرت ابراہیم ادھم نے عرض کیا اے میرے اللہ تجھے تو علم ہی ہے کہ تو نے مجھے اپنی محبت عطا فرمائی ہوئی ہے اپنے ذکر کے ساتھ مجھے انس دیا ہوا ہے اور مجھے تو نے اپنی عظمت میں سوچ اور فکر کرنے کے لئے فراغت عطا کر رکھی ہے ایسی نعمتوں کے مقابلے میں مچھر کے ایک پر جتنا درجہ بھی جنت نہیں سمجھتا ہوں۔حضرت سری سقطی نے فرمایا ہے جو اللہ کے ساتھ محبت رکھتا ہے وہ زندہ رہتا ہے اور جو دنیا پر مائل رہا وہ محروم رہ گیا اور بیوقوف شخص تو صبح و شام یعنی ہمہ وقت کچھ نہیں کچھ نہیں کرتا رہتا ہے اور صاحب عقل اپنے نقائص کی جستجو میں رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: