ہم کب خوش ہوں گے

جب تک ہم کسی چیز کو کھو نہیں دیتے، گنوا نہیں دیتے تب تک اس کی اہمیت نہیں سمجھ سکتے۔ بچپن گزر گیا، اب رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ بے فکری نکل گئی، اب فکروں کی فکر ستاتی ہے۔ پہلے دو پریشانیاں تھیں، اب دس ہیں ۔دو میں بھی گھبرائے تھے، دس میں بھی گھبرائے۔

وہی گھبراہٹ…وہی پریشانیاں …کل ایک خوف تھا، آج کئی خوف ہیں۔ تب بھی خوفزدہ تھے، اب بھی خوفزدہ ہیں۔ تو پھر ہم خوش اور مطمئن کب ہوں گے؟ جب دس نہیں ایک پریشانی ہو گی؟ لیکن ایسا ہوا کہ کوئی پریشانی نہیں تھی تو بے چینی پیدا ہونے لگی۔ہم تب بھی خوش اور مطمئن نہیں ہوں گے جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو گا۔ آج دو بازو ہیں، دس انگلیاں ہیں، ان میں سے کوئی ایک انگلی کم ہو جائے، تب ہم وہ دن یاد کریں گے جب ہمارے پاس پوری دس انگلیاں تھیں۔ پھر ٹھیک والا شکر ادا کریں گے۔والدین آس پاس ہوتے ہیں، ان سے زیادہ وقت موبائل کو دیتے ہیں، گھروں سے باہر رہنا، نیند پوری کرنا، ٹی وی دیکھنا وغیرہ۔ خدا نخواستہ کوئی ایک وفات پا جائے تو پھر دل کا سکون گنوا دیتے ہیں۔ یہ جو لمحہ ہے،یہی سب کچھ ہے۔موبائل چھوڑ کر والدین کے گلے میں بانہیں کیوں نہیں ڈالتے؟ساری دنیا سے گپ شپ کرتے ہیں، ان سے بات کیوں نہیں کرتے؟
جو لوگ کالج یا یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں وہ رو رو کر اسٹڈی کرتے ہیں، امتحانوں میں روتے ہیں، تھکتے ہیں، جب جاب کرتے ہیں تو باس کو کوستے اور سسٹم کو گالیاں دیتے ہیں۔سسٹم پر غصہ نکالتے ہیں۔ پھر یونیورسٹی ،کالج کے دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ توپھر جو آج کا لمحہ ہے، آپ جو اسٹوڈنٹ ہیں وہ خوش کیوں نہیں ہوتے؟

اگر آپ جاب کر رہے ہیں تو پہلے کتنے پریشان تھے کہ اچھی یا بری جاب نہیں ملتی، مل گئی تو آفس کا ماحول پسند نہیں آیا۔ صبح جلدی اٹھنا پڑتاہے، کام کا بوجھ بہت ہے، سیلری کم ہے۔ فلاں آپ کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، باس کی ناک پر کچھ چڑھتا نہیں ہے۔ مجھے بس یہ بتائیں کہ کس سچویشن میں خوش ہوں گے؟ پرفیکشن نہ آتی ہے نہ آئے گی، تو خوش نہیں ہوں گے؟ کمی کل بھی تھی، کمی آج بھی ہے، کمیاں آئندہ بھی ملیں گی، تو کیا جو موجود ہے اسے قبول کرکے مسکرائیں گے نہیں؟خوشی، اطمینان، شکوے اور دکھوں کے ساتھ چمٹے رہنے سے نہیں ملے گا، یہ صرف اور صرف ”شکر“ادا کرنے سے ملے گا، ورنہ صبر سے۔ ان دو حالتوں کے علاوہ آپ خوشی،اطمینان نہیں پا سکتے۔ د ی سیکریٹ بک میں لکھا ہے کہ جو انسان شکایتی ہوتا ہے اس کے آس پاس وہی ماحول بن جاتاہے کہ اسے ہر چیزسے پھر شکایت ہی ہوتی ہے۔ اس لیے کہا گیا کہ شکر ادا کرو، اور ملے گا، شکر کرو بے شک تیز دھار تلوار پر چل رہے ہو، چل تو رہے ہو۔ چلتے رہیں، اسی میں اطمینان ہیں۔
اور مسکراتے رہیں کہ یہی اصل شکر گزاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: