انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے دل کے اندر دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک فرشتے کی طرف سے ہوتا ہے بھلائی کا وعدہ کرنا اور تصدیق کرنا جس کو یہ آئے وہ سمجھ جائے کہ یہ اللہ کی جانب سے وارد ہوا ہے اور اللہ کی حمد کرے اور ایک خیال شیطان کی جانب سے آتا ہے برائی کا وعدہ کرتا ہے ارتکاب کرتا ہے حق کو جھٹلانے پر اور باز رکھتا ہے۔

بھلائی سے جس کو یہ آئے اسے چاہیے کہ پڑھے۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔( اللہ کی پناہ مانگتا ہوں مردود شیطان سے)۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیہ کریمہ کو پڑھا۔ ( تمہارے ساتھ شیطان تنگدستی کا وعدہ کرتا ہے اور تم کو بے حیائی کرنے کا حکم دیتا ہے)۔ حضرت حسن نے فرمایا ہے دو خوف ہے وہ دل کے اندر جاری ہوتے ہیں ایک خوف اللہ سے ہوتا ہے اور ایک خوف دشمن سے ہوتا ہے اللہ رحم فرمائے اس بندے پر جو بوقت خوف کھڑا ہوا۔ اللہ کا جوخوف تھا اس کو تو اس نے قائم رہنے دیا اور جو دشمن کی طرف تھا اس کے ساتھ اس نے جہاد کیا اور مقابلہ کیا۔حضرت جابر بن عبیدہ عدوی نے فرمایا ہے کہ میں نے شکایت کی حضرت علاء بن زیاد سے کہ میرے دل کے اندر وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دل کی مثال اس طرح سے ہے جس طرح گھر ہوتا ہے اس میں چور گھس آتے ہیں اس کے اندر اگر کچھ موجود ہوتا ہے تو اس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اگر نہیں ہوتا تو وہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں مراد یہ ہے کہ دل خواہش سے خالی پڑا ہو تو اس کے اندر شیطان مداخلت نہیں کرتا۔اسی لئے ارشاد الہی ہوا ہے۔( بےشک میرے بندے کے اوپر تجھے تصرف نہیں ہو سکے گا)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: