بادشاہوں کے ملبوسات تیار کرنے والے کا واقعہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے تو صرف پرہیزگار کا ہی کھائے اور تیرا کھانا بھی صرف اہل تقویٰ ہی کھائے اور لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے تونگر لوگوں کے بجائے بالخصوص فقیروں کو ہی جمع کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے سب سے برا کھانا ایسے ولیمہ کا ہوتا ہے جس میں صرف مالداروں کو کھلایا جاتا ہے اور فقراء کونہیں۔رشتہ داروں کو دعوت میں بلا لینا اچھا ہےاس لیے کہ اگر ان کو یاد نہ رکھے تو قطع رحمی کرنا اور آپس میں وحشت پیدا کرنا ہوتا ہے ایسے ہی بالترتیب دوستوں کو بلایا جائے اور پھر واقف کاروں کو کیونکہ اگر بعض کو دعوت دے باز کو نہ دے تو اس سے اجنبیت ہونے لگتی ہے۔

نیز یہ ضروری ہے کہ دعوت میں فخر و غرور ہرگز نہ ہو اور دل میں نیت ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہوں اور مومن بھائیوں میں اور زیادہ محبت قائم کر رہا ہوں کیونکہ کھانا کھلانےاورمسلمانوں کے قلوب میں خوشی پیدا کرنا اسی نتیجہ پر منتج ہوتا ہے۔اور جو شخص دعوت کی قبولیت میں دشواری محسوس کرے اس کو مجبور کر کے مت بلا ۓ اور کوئی ایسا شخص بھی مدعو نہ کرے جس سے دیگر آنے والے تکلیف محسوس کرے اور مدعو اس کو ہی کرے جس سے اس کی دعوت گوارا ہو۔حضرت سفیان نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کو دعوت پر بلائے اور وہ دعوت کرنے کو پسند نہ کرتا ہو تو دعوت دینے والا گناہ گار ہے اور دعوت قبول اگر وہ کرے گا تو اس کے لیے دو گنا گناہ ہو گا کیونکہ گوارا نہ کرتے ہوئے بھی اس کو کھانے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔

جب صاحب تقوی کو کھلایا جائے تو یہ عبادت کرنے میں مدد کرنا ہے جبکہ بدمعاش کو کھلانا اس کی بدمعاشی میں تعاون کرنا ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ کو ایک درزی کہنے لگا کہ میں بادشاہوں کے ملبوسات تیار کرتا ہوں کیا آپ کا خیال ہے کہ میں بھی ظلم کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ظالم تو وہ ہے جو تجھے سوئی اور دھاگہ اور کپڑا فراہم کرتے ہیں تیرے ہاتھ بیچ کر جب کہ تو خود ظالموں میں سے ہے لہذا توبہ کر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: