میں نے جب سے یہ سترہ اصول اپنائے ہیں میری زندگی بدل کر رہ گئی – محمد سلیم

احمد البوری سعودی عرب کے بینکر ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کو سرمایہ کاری سے متعلق مشورے دیتے ہیں۔ بچت کی عادت اپنانے پر اکساتے ہیں اور شتر بے مہار جینے کے ڈھنگ کو ترک کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

01: اپنے اھداف مقرر کیجیئے اور اھداف کی طرف بڑھتے اپنے اقدام کی پیمائش کرتے رہا کیجیئے۔ اگر ھدف مقرر نہ کیا گیا ہو، ایسے میں کوئی بڑا موقع مل بھی گیا تو آپ کو سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ اس کو استعمال کیسے کرنا ہے اور اس سے کیسے مستفید ہونا ہے۔
یہ سوچنا بالکل غیر اہم ہے کہ آپ اپنے ھدف کی طرف بہت آہستہ بڑھ ہیں۔ بس اہم یہ ہے کہ آپ نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔
02: اپنی زندگی میں کچھ نیا ضرور ایجاد کیجیئے۔ صرف صارف بن نہ جیئے، بلکہ کوئی نئی چیز بنا کر دنیا کو دیجیئے۔
اپنے شب و روز ہی دیکھ لیجیئے کہ آپ کیا پسند کرتے ہیں اور کیسے کرنا چاہتے ہیں، بس ویسا ہی کچھ بنانا شروع کیجیئے۔ وقت کے ساتھ بہتر بن جائے تو خلق خدا کو بھی فائدہ اٹھانے دیجیئے۔ “بنجمن فرینکلن کہتا ہے: کچھ ایسا لکھیئے جسے پڑھنے کا حق بنتا ہو، یا کچھ ایسا کیجیئے جس پر لکھا جانا حق بنتا ہو۔
03: کام کرنے کا نشہ طاری کیجیئے، نتیجے پر رسائی کیلیئے جلدی کیجیئے۔ اپنے افکار کو حقیقت کا روپ دینے اور اس کو جلد مکمل کرنے کی عادت ڈالیئے، جب تک ایسا نہ ہوگا زندگی کیسے بدلے گی؟

سب لوگ کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، اپنے آپ کو بہتر کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسے بہت کم ہیں جو اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے پر کام بھی کرتے ہیں۔ اپ بھی انہی بہت کم لوگوں میں سے ایک بن جائیے۔ بھروسہ رکھیئے جلد بہتری ہوگی۔ بروسلی کہتا تھا: بغیر چلے مسافت کا کیسے پتہ چلے گا؟
04: اپنے بارے میں سوچیئے، اور اپنی زندگی پر اثر انداز ہونے والوں کی ایک حد مقرر کیجیئے۔
ایسے لوگوں کو بالکل ہی نظر انداز کیجیئے جو آپ کی روح کو نہیں سمجھتے، آپ پر مسلط رہنا چاہتے ہیں یا آپ کے فیصلے خود سے کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے آپ سے قائل ہو کر رہیئے۔ آپ اپنی زندگی کے مالک ہیں۔ اپنے فیصلے خود کیجیئے، غلطیاں ہونگی مگر ان سے سیکھیئے۔ ٹیموتھی لیری کہتا ہے: اپنی ذمہ داریاں اٹھائیے اور اپنی زندگی کو خوبصورت بنائیے۔
05: آپ کی زندگی آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ سے زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی ذمہ داری اٹھائیے خواہ یہ کوئی بلا واسطہ رشتہ یا تعلق ہو یا بالواسطہ تعلق۔

یقین جانیئے آپ کا ذہن بدلنا شروع ہو جائے گا، بہانے بازی کی عادت ختم ہوگی، زندگی تلاش اور مسائل کے حل کی طرف چلے گی نہ کہ ایسے بہانوں کی طرف کہ ایسا کیوں نہ کیا۔ بہر حال زندگی فرار کا نہیں بڑے سے بڑا بوجھ اٹھانے یا اٹھا لینے کی ذمہ داری قبول کرنے کا نام ہے۔
06: اپنے منفی رد عمل کو کم کریں۔ منفی رد عمل آپ کو اپنے کیئے پر شرمسار کرتا ہے کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔
جیسے ہی اپ کے اندر منفی خیالات کی یلغار ہو، رُک جائیے، ایک لمبا سانس لیجیئے اور ایک سے 10 کی الٹی گنتی گنیئے۔
اس سے آپ تھوڑا سا پر سکون ہونگے یا کم از کم اپنے کہے یا کیئے پر سوچنے لگیں گے۔ مارک ٹوین کہتا ہے: کسی احمق کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرنا، دیکھنے والے آپ دونوں میں سے کچھ بھی فرق نہ کر پائیں گے۔
07: لوگوں کی باتوں پر زیادہ کان نہ دھریئے یا لوگ کیا کہیں پر مت سوچیئے۔ اپنی زندگی کو گومگو میں برباد نہ کیجیئے کہ نجانے یہ ٹھیک ہو یا نجانے یہ غلط ہوگا۔ بہت سارے لوگوں کو آپ سے غرض ہی نہیں ہوتی کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ ٹائرہ کہتی ہے: کسی اور کیلیئے اپنے خوابوں کا قتل نہ کیجیئے گا۔

08: اپنی ناکامیوں کا الزام لوگوں پر دھرنا بند کیجیئے۔ اپنے افسر، اپنے دوستوں یا اپنے کنبے پر اپنی ناکامی کا الزام نہ لگائیے۔
اگر آپ اپنے خوابوں کو حقیقت کا جامہ نہیں پہنا سکے تو اپنے آپ سے سوال کیجیئے کہ اس سلسلے مین جو کام کرتے رہے ہیں وہ ٹھیک تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اپ اپنے اھداف تک پہنچ جاتے مگر آپ نے راستہ غلط چنا تھا۔ اپنی پریشانیوں، ناکامیوں یا محرومیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بارے میں کبھی سوچیئے بھی نہیں۔
09: خطرات سے کھیلنا سیکھیئے۔ ایسے کیئے بغیر زندگی ملل اور بے فائدہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ہاں ایک بات ہے: جب بھی کوئی رسک لیجیئے تو اپنئ طاقت اور استطاعت پر نظر رکھیئے گا۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خطرات سے کھیلنے پر ندامت ہوتی ہے اور ناکامی کی پشیمانی بھی اٹھانی پرتی ہے۔ اپنی استطاعت کا حساب لگائیے۔ خطرات میں اہستہ آہستی کودیئے اور اپنی زندگی کو تھوڑا تھوڑا کر کے بہتری کی طرف لے جائیے۔ محمد علی کلے فرماتے ہیں: جس کے اندر خطرات کو برداشت کرنے کی ناکافی صلاحیت ہو وہ زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے۔

10: اپنی صحت سے لا پرواہی نہ برتیئے۔ آپ کی صحت آپ کی دولت ہے۔ اور یہ ایسی دولت ہے جو خالص آپ ہی کیلیئے ہے۔
اپنی اس دولت کی کھیل سے، کھانے پینے سے، سیر و تفریح سے اور خوش باش ماحول میں گپ شپ سے حفاظت کیجیئے۔ اگر تو آپ دکھاوے کی زندگی نہیں جیتے تو پھر پوری خود غرضی کے ساتھ اس کی حفاظت کیجیئے۔ اس کے بارے میں اپنی خاطر سوچیئے۔ اگر آپ کا غذائی نظام ہی درست نہیں تو آپ کو دوائیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اور اگر آپ اپنی صحت کی بہتر حفاظت کر رہے ہیں تو پھر اپ کو دوائیوں کی ضرورت ہی نہیں پڑنے والی۔
11: اپنا وقت ایسے لوگوں کے ساتھ گزاریئے جن سے آپ محبت کرتے ہیں۔ ایسی زندگی مین زیادہ لطف ہے جب آپ ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جن سے آپ پیار کرتے ہیں، جن کے ساتھ آپ ہنستے مسکراتے ہیں، ہنسی مذاق کرتے ہیں بلکہ اوٹ پٹانگ مذاق بھی کر سکتے ہیں۔ اس بات کا لازمی خیال رکھیں کہ آپ نے اپنے پیاروں کیلیئے وقت ضرور نکالنا ہے اس کی خاطر بھلے کام کیلیئے آپ کو کچھ اضافی وقت ہی نہ دینا پڑ جائے۔

اپنے پیاروں کے ساتھ وقت یہ سوچ کر گزاریئے کہیں کسی دن اس بات کی حسرت نہ کرنی پڑ جائے کہ میری تمنا تھی کہ میں ایسا کرتا۔ یا میں ایسے کر جاتا تو زیادہ خوشی ملتی۔
12: شکوے کرنا بند اور قربانی کا بکرا تلاش کرنا چھوڑیئے۔ شکوہ کرنے سے نہ تو کوئی مفاد ملتا ہے اور نہ ہی ہو چکی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے: ، میں آپ کو یہ بھی نہیں کہتا! آپ کے اندر بہت سارے جذبات ہو سکتے ہیں، لیکن آپ اپنی اس عادت سے اپنی اور دوسروں کو آپ سے بھی نفرت ہوگی کہ آپ جتنا شکوہ شکایت کرتے ہیں یہ امر اتنا زیادہ واقع ہوتا ہے۔
رینڈی پاؤچ کہتا ہے: شکایت نہ کرو۔ بس ذرا محنت کرو۔
13: جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کا شکر ادا کیجیئے۔ اس سے زیادہ کی تمنا کیجیئے، اس سے بہتر کی لالچ کیجیئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو کچھ اپ کے پاس ہے اس کو بھی قبول کیجیئے اور اس کی قدر کیجیئے۔ بس یہی بہترین طریقہ کار ہو سکتا ہے۔ اس طرح آپ نفسیاتی طور پر پرسکون رہیں گے۔ ماہر روحانیات ایکھارٹ ٹول کہتا ہے: اپنے پاس پہلے سے موجود اچھی چیز یا اچھائی کا اعتراف کرنا ہی کثرت کی بنیاد ہوتی ہے۔

14: پیسہ ایک وسیلہ تو ہوتا ہے مگر سب کچھ نہیں ہوتا۔ یسے کی طاقت کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا، لیکن لوگوں کی بات کو اس حد تک بھی نہ مانیئے کہ پیسہ آتا ہے تو تبدیلی آتی ہے۔ پیسوں سے جو منفی خیال آتے ہیں ان کو ترک کیجیئے۔ اگر آپ اچھے انسان ہیں تو آپ کے پاس مزید پیسہ آنے سے آپ کی اچھائی اور نکھرے گی، اور اگر کوئی شخص پہلے سے ہی مغرور ہے تو اس کے پاس پسیہ آنے سے اس کا گھمنڈ اور تکبر اور بڑھے گا۔ پیسے کی ہوس کو طاری نہ کریں، آپ نفسیاتی طور پر آرام سے رہیں گے، آپ کو آپ کے اطراف میں ہر شئے پر سکون محسوس ہوگی، آپ خوشی خوشی رہنے لگیں گے۔
15: ایک اصول کو ذہن میں بٹھا لیجیئے کہ علم حاصل کرنا کسی بھی لمحے نہیں رکنا چاہیئے، اور آپ نے کبھی بھی علم حاصل کرنے سے نہیں رکنا۔ اگر آپ کوئی علم نہیں حاصل کرنا چاہتے تو آپ اپنا خاتمے کا سوچ چکے ہیں۔ کوشش کیجیئے کہ روزانہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملے، بھلے وہ چھوٹی سی بات ہی کیوں نہ ہو۔ سٹیف جابز کہتا تھا: سیکھنے کا کام مستقل کرتے رہیئے، کائنات میں ہمیشہ ایک اور مختلف چیز موجود ہوتی ہے۔

16: چھوٹی چھوٹی چیزوں سے لطف اُٹھائیے۔ اپنے لطف اندوز ہونے کیلیئے کوئی حد مقرر نہ کیجیئے: جیسے: اگر میں نے یورپ کا دورہ نہ کیا تو مزا نہیں آئے گا۔ اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے لطف لیجیئے، ایسی ایسی چھوٹی باتیں یا چیزیں جن سے آپ کو ذرا سی بھی خوشی مل رہی ہو۔ اپنی زندگی میں چھوٹی چیزوں سے ابھی سے لطف لینا شروع کیجیئے، ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا وقت آ جائے جب آپ کو لگے یہ تو بڑے مزے کے اور بڑے بڑے کام تھے۔
17: ایمانداری اور سچائی کے ساتھ رہیئے۔ بھلے آپ نے لاکھ کوششیں کیں، تھک ہار بیٹھے لیکن کچھ بہتری نہ لا سکے تو بھی کوئی بات نہیں، جان لیجیئے کہ مغلوب بھی غالب آ جایا کرتے ہیں۔ اپنے بن کر رہیئے، اپنے آپ سے سچے بن کر رہیئے، بہتر سے بہتر کی کوشش جاری رکھیئے، ایسا بہتر جو آپ کیلیئے بہتر ہو، آپ کی شخصیت کیلیئے بہتر ہو اور اپ کے مقام و مرتبے کیلیئے بہتر ہو۔
سائمن سینک کہتا ہے: اصل وہی ہوا کرتا ہے جس پر آپ ایمان اور یقین رکھتے ہوئے کہتے اور کرتے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: