قرآن پڑھو اور پڑھ کر رویا کرو اگر رونا نہ آئے تو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کثرت سے ہنسنے میں قلب کی موت ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی جوانی پر فخر کرتے ہوئے جو ہنسا وہ اپنے بڑھاپے پر رویا اور جو اپنے مال پر ہنسا وہ اپنے فقر پر رویا اور جو اپنی ذیست پر ہنستا رہا اسے اپنی موت پر رونا پڑا۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قرآن پڑھو اور پڑھ کر رویا کرو اور اگر رونا نہ آسکے تو رونے والے صورت ہی بناؤ۔اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں حضرت حسن سے روایت کیا گیا ہے۔( بس چاہیے کہ وہ تھوڑا ہنسے اور روئے زیادہ بطور اس کی جزا کہ جو کچھ وہ کسب کرتے ہیں)۔کہ انہوں نے فرمایا دنیا کے متعلق کم ہنسیں اور آخرت کے لیے زیادہ رویا کریں اور یہ بھی فرمایا حیرت ہے ہنسنے والے اس طرح کے شخص کہ جس کے پیچھے آ گ ہے اور اس خوش ہونے والے پر بھی کہ جس کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے۔

ایک مرتبہ حضرت حسن کا گزر ایک نوجوان کے پاس سے ہوا جو ہنس رہا تھا آپ نے فرمایا اے بیٹے کیا تو نے پل صراط عبور کر لی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں فرمایا گیا تمہیں یہ علم ہو گیا ہے کہ تو جنت میں داخل ہو گا اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر کیسے ہنستے ہو اس وقت سے بعد کبھی کسی نے اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔حضرت ابن عباس سے روایت کیا گیا ہے کہ جو گناہ کرکے پھر بھی ہنس رہا ہوں وہ ایسی حالت میں دوزخ میں داخل ہو گا کہ رو رہا ہوگا۔ اللہ نے متعدد لوگوں کی رونے کی وجہ سے تعریف فرمائی ہے فرمایا ہے۔ ( اس کتاب کو کیا ہے کہ کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز کو نہیں چھوڑتی بلکہ اس کو شمار کر لیا ہے)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: