شوہر کے دو اہم ترین حقوق

شوہر کو اپنی بیوی پر بہت سے حقوق حاصل ہے ان میں سے دو حقوق اہم ترین ہے۔
1۔ حفاظت اور پردہ۔ 2۔ حاجت سے زیادہ طلب نہ کرنا اور بالخصوص خاوند کی حرام کی کمائی سے بچنا۔
سلف صالحین کا معمول ہوتا تھا کہ کوئی شخص اگر گھر سے باہر جاتا تو اس کی بیوی یا بیٹی کہا کرتی تھی حرام کے کاروبار سے بچ کر رہنا ہم بھوکے اور تکلیف میں صبر تو کر سکیں گے مگر اگ پر ہم سے صبر نہ ہو سکے گا۔

ایک مرتبہ ایک آدمی نے سلف صالحین میں سے سفر پر رخصت ہونے کا ارادہ کرلیا تو اس کے پڑوس والوں نے اس کا سفر پر نکلنا پسند نہ کیا تو وہ اس کی زوجہ سے کہنے لگے کہ تو اس کے سفر پر چلے جانے پر کیوں راضی ہو گئی ہو حالانکہ وہ تجھے اخراجات بھی فراہم کرکے نہیں جا رہا۔ بیوی نے جواب دیا کہ ہم نے جب سے یہ آدمی دیکھا ہے تو یہی دیکھا ہے کہ یہ بہت کھانے والا شخص ہے اسے رازق بھی نہیں دیکھا میرا رازق تو پروردگار تعالیٰ ہے اور اب یہ صورت حال ہے کہ جو کھانے والا ہے وہ جارہا ہے جو رازق ہے وہ یہاں ہی موجود ہے۔ حضرت رابعہ بنت اسماعیل نے حضرت احمد بن ابی حواری کو پیغام ارسال کیا کہ ان سے نکاح کرلے مگر انہوں نے گوارا نہ کیا کیونکہ وہ عبادت میں رہتے تھے انہوں نے جواب دیا کہ میں عورتوں کے لیے ہمت نہیں رکھتا ہوں کیونکہ میں اپنے کام میں مشغول رہتا ہوں۔ حضرت رابعہ نے ان سے کہا کہ میں خود بھی اپنے حال یعنی عبادت میں لگی ہوئی ہو اور مجھ کو شہوت بھی نہیں ہوتی مگر یہ کہ اپنے سابقہ خاوند سے میرے پاس بہت سا مال ہے

میں چاہتی ہوں کہ وہ مال تم اپنے بھائیوں پر صرف کر لو اور یوں آپ کے ذریعہ سے میں بھی نیک بندوں کو جان لو گی اور میرے واسطے اللہ کی جانب ایک راستہ مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں اپنے شیخ سے اجازت حاصل کرتا ہوں ان کے شیخ ابو سلمان درانی تھے۔ جنہوں نے اس کو نکاح سے ممانعت کر رکھی تھی اور فرمایا کہ ہمارے لوگوں میں سے جس نے نکاح کرلیا اس کا حال خراب ہوگیا۔ جب اس عورت کے حال سے حضرت ابوسلیمان الدارانی رحمۃ اللہ علیہ واقف ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ نکاح کر لو یہ عورت اللہ کی ولیہ ہے اور اس نے جو بات کی ہے وہ صدیقوں کا کلام ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس سے شادی کر لی پھر ہم گھر میں یوں رہتے ہے غسل تو کیا کرنا ہم اس شخص کے مانند تھے جس کو کھانے کے بعد جلدی سے چلے جانا ہوتا تھا اور ہاتھ بھی دھو لینے کی فرصت نہیں ہوتی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد تین عورتوں کے ساتھ نکاح کیا مگر یہ پہلی بیوی مجھے اچھا کھانا کھلایا کرتی تھی مجھے خوش رکھتی تھیں اور کہتی تھی جاؤ اور خوش رہو اور اپنی دوسری بیویوں کے واسطے قوت حاصل کرو حضرت رابعہ بھی وہی مقام شام میں رکھتی تھی جیسے بصرہ میں حضرت رابعہ عدویہ کا مقام تھا۔
Aa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: