دوزخ میں زیادہ عورتیں کیوں ہوگی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے بنیادی احکام میں شوہر کی اطاعت شامل فرمائی ہے آپ نے عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ حاملہ عورت اور بچہ جننے والی اور دودھ پلانے والی اور اپنی اولاد پر رحم کرنے والی عورتیں اگر ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے شوہر کی نافرمان نہ ہو تو ان میں نمازی عورت جنت میں داخل ہوگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں نے دوزخ میں نظر ڈالیں تو وہاں زیادہ عورتیں دکھائیں دی عورتوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کیوں ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ کثرت سے لعنت کیا کرتی ہیں اور اپنے خاوند کی ناشکری کی مرتکب ہوتی ہیں۔دیگر روایت میں یوں آیا ہے کہ میں نے جنت کے اندر جھانک کر دیکھا تو عورتیں کمتر تھی میں نے پوچھا کہ عورتیں کہاں چلی گئی ہیں تو جبرائیل نے بتایا کہ ان کو دوسرخ اور رنگ دار چیزوں نے روکا ہوا ہے دوسرخ چیزوں سے مراد سونا اور زعفران ہے اور رنگدار سے مراد رنگین بھڑ کے لیے ملبوسات ہیں ۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں جوان ہوں اور میرا رشتہ مانگا جاتا ہے جب کہ میں نکاح سے متفر ہوں اب بیوی پر شوہر کیا حق رکھتا ہے ۔ پ نے فرمایا اگر وہ اوپر سے نیچے تک پیپ آلودہ ہو اور تو وہ چاٹ لے پھر اس کا شکر ادا نہیں ہوگا عورت بولی کیا میں نکاح نہ کرو آپ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ نکاح کرو یہی کئی درجے بہتر ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک عورت حاضر ہوئی جو قبیلہ بنو خشعم سے تھی اس نے عرض کیا کہ میں بیوہ عورت ہوں۔

اور ارادہ ہے کہ میں نکاح کر لو اب شوہر کا کیا حق ہے ؟ آنجناب نے ارشاد فرمایا کہ خاوند کا بیوی پر یہ حق ہے کہ وہ جس وقت ارادہ کرے کہ زوجہ کے ساتھ مباشرت کرے اور اس کی جانب راغب ہو اور وہ اونٹ کی پشت پر سوار ہو تو پھر بھی وہ مرد کو باز نہ رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: