خوش نصیب میاں بیوی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر کو ارشاد فرمایا کہ تو نے کیوں نہ باکرہ عورت سے شادی کی تاکہ وہ تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم اس کے ساتھ کھیلتے۔ایک بدویہ تھی جس نے اپنے مرے ہوئے شوہر کی یوں تعریف کی واللہ وہ جس وقت گھر میں آتا تھا تو ہمیشہ ہنستا ہی رہتا تھا اور جب وہ باہر جاتا تھا تو خاموش رہا کرتا تھا۔

اسے جو مل جاتا تھا وہی کھا لیا کرتا تھا جو چیز موجود نہیں ہوتی تھی اس کے بارے میں کبھی نہیں پوچھتا تھا۔اور آدمی کے لئے یہ ضروری ہے کہ خوش طبع اور حسن اخلاق اور اس کی خواہشوں کے موافق حس سے تجاوز ہرگز نہ کرے تاکہ اس کی عادت ہی خراب نہ ہوجائیں اور مرد کا رعب بھی اس کے دل میں نا رہے ہر چیز کے بارے میں حد اعتدال پر ہی رہے اور اپنا رعب و دبدبہ بالکل ہی ختم نہ کر دے۔ آدمی کے واسطے لازم ہے کہ وہ اس سے غیرموزوں بات بالکل نہ کرے اور جو افعال برے ہیں ان میں اس کو دلچسپی لینے سے باز رکھے اور جس وقت دیکھے کہ وہ شریعت اور مروت کے خلاف چلتی ہے تو اس کو تنبیہ کرے اور سیدھی راہ پر اس کو ڈالے۔حضرت حسن نے فرمایا ہے کہ عورتوں سے جائز مخالفت کرو اس لیے کہ ان کے ساتھ اختلاف میں برکت ہے اور ایک قول یوں ہے کہ ان کے ساتھ مشورہ کروں اگر وہ غلط مشورہ کرے تو ان کی مخالفت کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: