سیدہ عائشہ اور عاشورہ پر کھیل

سیدہ عائشہ نے فرمایا ہے مجھے خبشی اور دیگر لوگوں کی آوازیں سنائی دیں وہ یوم عاشورہ پر کھیل میں لگے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ کیا تمہاری خواہش ہے ان کا کھیل دیکھیں میں نےعرض کیا ہاں آپ نے ان کی طرف آدمی بھیجا اور بلا لیا وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دروازوں کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اور اپنا ہاتھ دروازے پر رکھ لیا اور ہاتھ کو لمبا کر لیا آپ کے ہاتھ کے اوپر میں نے اپنی ٹھوڑی رکھ دیں وہ لوگ کھیل میں لگے رہے اور میں دیکھتی رہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرماتے تھے کہ کیا کافی ہے تو عرض کرتی تھی ذرا خاموش رہے۔

آپ نے ایسے ہی دو یا تین بار دریافت فرمایا اور پھر فرمایا اے عائشہ اب بس کرو میں نے کہا ٹھیک ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے فرما دیا تو وہ رخصت ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مومنوں میں سب سے زیادہ کامل وہ ایماندار ہے جس کا خلق عمدہ ہو اور جو اپنے اہل خانہ پر نہایت شفقت کرتا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم میں سے وہشخص بہتر ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہتر ہے اور تم سب کی نسبت میں اپنی ازواج سے بہتر برتاؤ کرتا ہوں۔حضرت عمر نے فرمایا ہے کہ غصہ ہوتے ہوئے بھی آدمی کے لئے مناسب یہی ہے کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک روا رکھے اور جس وقت اہل خانہ اس سے کچھ مانگیں جو کہ اس کے پاس ہو تو اس کو وہ ایک مرد ہی پائیں۔

حضرت لقمان نے فرمایا کہ عقل والے شخص کے واسطے مناسب یہ ہے کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بچے کی مانند ہو اور جس وقت وہ اپنی قوم میں ہو تو جوانوں کی مانند ہو۔جس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر جغطری حواظ کے ساتھ اللہ کو بغض ہوتا ہے اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اہل خانہ سے سختی کرتا ہے اور خود بین ہوتا ہے اور یہ بھی ان معانی میں سے ایک معنی ہے جو اللہ کے ارشاد عتل کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ مراد وہ ہے جو بد اخلاق زبان دراز اور اہل خانہ کے ساتھ سختی کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: