نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے

عنقریب تم ایک دن ایسی جگہ چلے جاؤ گے جہاں تم اپنے آپ کو تن تنہا پاؤ گے۔وہاں نہ تو تمہارے پاس تمہارے بیوی بچے ہونگے، نہ دوست و احباب اور نہ عزیز و اقارب۔ القاب و آداب کے سارے سابقے اور لاحقے جو تمہیں دنیا میں زیب و زینت بخشتے تھے سب ختم ہو جائیں گے۔اس وقت تم نہ عالی جناب رہو گے نہ شیخ کبیر اور نہ عالم جلیل یہاں تک کہ تم ایک عام طالب علم بھی نہیں رہو گے۔وہاں تم سے چند معروف سوالات کیے جائیں گے اور تمھیں اپنے دل کے ثبات و استقامت کے مطابق ان سوالوں کا جواب دینا ہو گا۔

اس جگہ تمہیں سارے لوگ تنہا چھوڑ کر چلے جائیں گے، تمہارے ساتھ صرف تمہارا عمل باقی رہے گا۔وہاں تمہارے ساتھ کوئی چیز نہیں ہوگینہ مال و جائداد،نہ بیوی ،نہ بچےنہ عزیز و اقارب نہ گاڑیاں ،نہ گھر اور بنگلے ،تمہارے اعمال کے علاوہ تمہارے ساتھ کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ کیا تم نے اس جگہ کے لئے تیاری کر رکھی ہے؟یقینا تمہیں اس جگہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ایک دن ضرور جانا ہوگا۔لوگ تمہیں ایک تنگ و تاریک گڑھے میں اتار کر دفن کر دیں گے۔ پھر تمہارے اوپر منوں مٹی کی چادر اوڑھا کر اس گڑھے کو بند کردیں گے۔ دنیا میں تم خواہ کتنے ہی طاقتور رہے ہو گے تم نے خواہ کتنی ہی زندگی گزارے ہوگی۔تم کتنے ہی خوبصورت تھے،تمہارا حال کیسا بھی تھا،تم کتنے ہی مالدار تھے،ان سب کے باوجود اس جگہ تمہیں تن تنہا رہنا پڑے گا۔کیا تم نے اس تنہائی کے لئے تیاری کر رکھی ہے؟

کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس جگہ تمہارے عمل صالح کے علاوہ کوئی بھی چیز تمہیں فائدہ نہیں دے گی؟لہذا نیک عمل کرو . اور خوب کثرت سے کرو .دنیا میں جو کچھ بھی تمہیں اللہ نے عطا کر رکھا ہے اسے اللہ کی خاطر اور آخرت کی تیاری میں استعمال کرو۔ کیا تمہیں اس جگہ کا نام معلوم ہے؟ وہ جگہ قبر ہے۔(آدمی اس دنیا میں کتنی ہی لمبی زندگی گزار لے ایک نہ ایک دن ضرور اسے نعش پر لد کر جانا ہوگا۔) شيخ محمد بن عمر بازمول حفظه الله # قناةسوكنةالسلفية

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: