عورت کے گھر میں کرنے کے کام

عورت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بلا اجازت شوہر کے مال میں تصرف نہ کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورت کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر میں سے کسی کو بھی کھلائے ایسی چیز جو کہ تازہ ہو اور خدشہ ہو کہ پڑی رہنے کے باعث وہ خراب ہو جائے گی وہ کھلا سکتی ہے جب کہ وہ بچی ہوئی ہو اور اگر خاوند کی اجازت کے ساتھ عورت کھلاتی ہے تو مرد کے ساتھ اس کو بھی ثواب حاصل ہوگا .

مرد کے برابر اور اگر بلا اجازت کھلایا اس کا صدقہ ہی کردیا تو مرد کو ثواب حاصل ہوگا جبکہ عورت پر اس کا گناہ ہوگا۔ والدین کے لئے لازم ہے کہ وہ بیٹی کو آداب معاشرت کی تعلیم اچھی دیں رہنے کا اچھا طریقہ اور خاوند کی فرمانبرداری کرنا سکھائیں جیسے کہ حضرت اسماء بنت خارجہ الفزاری نے اپنی بیٹی سے نکاح کے موقع پر فرمایا تھاایک گھونسلے میں رہتی تھی دارالامن۔ میں اب تو ایسے بستر پر جارہی ہے جس کو اچھی طرح سے جانتی بھی نہیں ہوں اور جس ساتھی کے ساتھ تم نے پہلے کبھی الفت نہیں کی لہذا تو اس کے لیے زمین بن جاؤ وہ تمہارا آسمان ہو جائے گا تو اس کے لئے بچھونا بن جا وہ تیری قوت کا باعث ستو ن ہوگا تو اس کے لیے لونڈی ہوجا تو وہ تمہارا خادم ہو جائے گا تو اس سے کنارہ کشی نہ کرنا ورنہ وہ تجھ سے دور ہو جائے گا اور تو اس سے دور مت ہونا ورنہ وہ تجھے بھول جائے گا اگر وہ تمہارے قریب آئے تو اس کے اور زیادہ قریب ہو جانا اگر وہ تجھ سے دور ہٹے تو تو اس سے پیچھے ہو جانا تو اس کے ناک کان اور آنکھ کی حفاظت کرنا وہ تجھ سے صرف تیری اچھی خوشبو ہی پائے تجھ سے اسے صرف اچھی بات ہی سنائی دے اور تجھ سے صرف اچھا کام ہی اسے دکھائی دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: