کیا شیطان سوتاہے

حضرت حسن کی خدمت میں کسی شخص نے عرض کیا ہے ابو سعید کیا شیطان بھی سویا کرتا ہے یہ سن کر آپ مسکرا پڑے اور فرمایا اگر شیطان سو جائے تو ہم کو آرام ہی آجائے کیونکہ مومن کو شیطان سے نجات نہیں ہے اور ضعیف رکھنے کا طریقہ ہو سکتا ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مومن یوں کمزور کر سکتا ہے اپنے شیطان کو جس طرح دوران سفر تم اپنے اونٹ کو کمزور کر لیتے ہو مراد ہے ذکر الہی کے ذریعے۔ابن مسعود فرماتے ہیں ایماندار شیطان ضعیف ہی رہتا ہے۔حضرت قیس بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے میرا شیطان مجھ سے گویا ہوا ہے کہ تجھ میں میں یوں داخل ہوگیا تھا کہ اس وقت میں مانند اونٹ کے تھا اور اب میں مانند چڑیا کے ہوں میں نے کہا کہ یہ کس طرح ہوا تو اس نے کہا کہ تم مجھے پگھلاتا رہتا ہے اللہ کے ذکر کے ذریعے۔بس یہ چیز پرہیزگار لوگوں کے لئے مشکل نہیں ہے کہ وہ شیطان کے ابواب کو مسدود کردے اور اس سے محفوظ رہیں یعنی وہ واضح طور پر بڑے گناہ کی جانب شیطانی راہ بند رکھیں اور ہر وہ پوشیدہ ان پر حملہ آور ہوا کرتا ہے

تو انہیں خبر نہیں ہوتے لہذا مخفی راہوں پر نگہداشت نہیں کر سکتے بایں وجہ کہ دل کی طرف بہت راستے ہیں شیطان کے جب کہ دل کی جانب فرشتوں کی ایک صاف راہ ہے تو متعدد راہوں میں یہ ایک راہ مشتبہ سی بن جاتی ہے بس ایسی حالت میں بندہ یوں ہوتا ہے جس طرح کوئی مسافر دوران شب جنگل میں جا رہا ہو۔ جس میں متعدد راستے ایک دوسرے کو کاٹتے ہو۔ اب درست راہ معلوم ہو سکتی ہے اگر آنکھ ہو جو دیکھ سکے اور آفتاب روشن ہو بس وہ دیکھنے والی آنکھ دل ہے یہ تقوی کے باعث شفاف ہے اور روشن سورج وہ علم ہے جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے میسر ہوا۔ اسی سے پوشیدہ راہوں میں درست راستے کی جانب رہنمائی ہو گی ورنہ متعدد راستے اس کو پریشانی میں مبتلا رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: