فری لانسنگ ویب سائٹ پر غیر مسلموں کا کام کرکے اُن سے اجرت لینے کا حکم

سوال :

میں نے مفتی صا حب سے یہ پتا کر نا تھا کہ ایک ویب سائٹ { website }ہے جس کا نام فری لانسر {freelancer }ہے جو کہ اسٹرالیا کی ہے ، اس ویب سائٹ میں دنیا بھر سے لوگ کام کر رہے ہیں جیساکہ ویب انٹری، ویب ڈایثرائنگ { data entry, web designing } وغیرہ ۔ وہ ہم سے قیمت مقرر کر لیتے ہیں ،

 

لیکن ہمیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ انکا روزگار جس میں سے وہ ھیمں ہمارے کام کی قیمت دے رہے ہیں جا ئز ہے یہ نہیں ، کیونکہ ان میں بہت سے لوگ غیر مسلم ہیں ۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔                               جواب نمبر:  بسم الله الرحمن الرحيم : فری لانسر (اجیر مشترک)کا کسی فری لانسنگ ویب سائٹ پر کلائنٹ (گاہک)سے کوئی جائز کام لینا اور اس پر باقاعدہ طے کرکے متعینہ محنتانہ لینا جائز ہے۔ اور کلائنٹ (کام کرانے والا گاہک) اگر غیر مسلم ہو تو چوں کہ راجح قول کے مطابق کفار فروعات کے مکلف نہیں ہوتے؛ اس لیے اُس کے پاس چوری، غصب اور دھوکہ دھڑی کے علاوہ سود وغیرہ کا جو کچھ پیسہ ہوتا ہے، وہ حرام نہیں؛ لہٰذا کسی مسلمان کا کسی جائز کام کی اجرت میں یا ہدیہ میں غیر مسلم سے وہ پیسہ لینا بھی ناجائز نہ ہوگا(باقیات فتاوی رشیدیہ،ص: ۳۲۷،

 

سوال: ۵۸۵، بحوالہ: مجموعہ کلاں ص ۲۲۴، ۲۲۶،، فتاوی دار العلوم دیوبند، ۱۷: ۳۶۶، ۳۶۷، ۳۹۷، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند)۔ اور اگر کلائنٹ مسلمان ہو تو دور حاضر میں اس صورت میں بھی معاملات کے باب میں مفتی بہ قول کے مطابق اُس کے پیسوں کے متعلق تحقیق اور کھود کرید کرنے کی ضرورت نہیں، خاموشی سے وہ اجرت میں جو پیسہ دے، رکھ لینے کی گنجائش ہے (در مختار وشامی، ۹:۲۷۶، ۲۷۷،۷: ۴۹۰، ۴۹۱، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند،امداد الفتاوی، ۲:۱۰، ۱۱،۱۴، ۱۵، ۶۶۸،سوال: ۱۹، ۲۸،۷۷۴،مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند ، فتاوی محمودیہ ، ۱۵: ۹۵- ۹۹، سوال: ۷۲۶۶،۷۲۶۷،۱۸: ۴۱۰ – ۴۱۲، ۴۱۵ -۴۱۷،سوال: ۸۹۰۱ – ۸۹۰۳،۸۹۰۸، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، فتاوی رحیمیہ جدید، ۵: ۲۱۰، مطبوعہ: مکتبہ احسان دیوبند، منتخبات نظام الفتاوی، ۲: ۲۷۰- ۲۷۲، مطبوعہ:ایفا پبلی کیشنز،دہلی، وغیرہ)۔  واللہ تعالیٰ اعلم . دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: