شیطان نے ا مام شافعی رحمتہ اللہ علیہ سے کیا پوچھا

نقل کیا گیا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ سے ابلیس کہنے لگا اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ مجھے جس نے پیدا فرمایا جس طرح اس کی مرضی تھی اور مجھے اس کام پر لگا دیا جو اس کی رضا تھی اس کے بعد وہ چاہے دوزخ میں داخل کرے اور چاہے تو جنت میں بھیج دے گا عدل ہوگا یا ظلم ہوگا۔

ان کی بات پر سوچا پھر فرمایا اے کمینے اگر اللہ نے تجھے یوں پیدا فرمایا جیسا تو چاہتا تھا تو یہ تجھ پر ظلم ہوا اور اگر اس نے اپنی مرضی کے مطابق تجھے پیدا فرمایا تو اس سے پوچھ نہیں سکتا جو کچھ وہ کرے دیگر ہر ایک سے پرسش ہوگی۔ یہ سن کر شیطان پریشان ہوگیا اور ختم ہوگیا پھر شیطان کہنے لگا یہی سوال کر کر کے میں نے ستر ہزار عابدوں کو عابدین کے دفتر سے خارج کرکے زندیقوں کی کتاب میں درج کرایا ہے۔روایت ہے کہ عیسی علیہ السلام کے پاس ابلیس آ گیا اور کہنے لگا لا الہ اللہ پڑھو آپ نے فرمایا اگرچہ یہ کلمہ حق ہے لیکن تمہارے کہنے پر نہیں پڑھوں گا۔یہ اس لیے کہ ابلیس نیک کاموں کے ذریعے بھی تلبیس کرکے برائی کر لیتا ہے جس طرح کی برائی کے ذریعے وہ بے شمار خرابیاں پیدا کرتا ہے اور یوں وہ عابدوں اور زاہدوں کو برباد کرتا ہے۔ ہاں جسے اللہ بچائے وہ بچا رہتا ہے یا اللہ کریم ہم کو بھی اس کی شر سے بچائے رکھے جب تک کہ ہم تجھ سے جاملے اور ہمیں ہدایت پر ہی رکھ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: