بدعت کے بارےمیں آپﷺ نے کیا فریا

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ خود کو نئے امور سے بچائے رکھو اس لئے کہ ہر نیا امر بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی آتش دوزخ کا سبب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا ہے جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو دین میں سے نہ ہو تو وہ بات مردود ہوگی۔

ایک اور مرتبہ آپ نے فرمایا ہے کہ میرے طریقہ پر اور میرے بعد آنے والے خلفاء راشدین کے طریقہ پر تمہیں چلنا ضروری ہے۔ مندرجہ بالا احادیث سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہر وہ چیز جو کتاب اور سنت اور آئمہ کے اجماع کے خلاف ہوگی وہ بدعت ہوگی رد کر دینے کے لئے مراد یہ کہ وہ بدعت سیئہ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جس نے عمدہ طریقہ کا اجراء کیا اسے اجر عطا ہوگا اور تا قیامت اس پر عمل کرنے والے شخص کا ثواب وہ طریقہ جاری کرنے والے کو ملتا رہے گا اور جس میں کوئی برا طریقہ جاری کردیا اس کے سراس کا اور قیامت تک اس پر عمل پیرا ہونے والوں کا بھی گناہ ہو گا اللہ کا جو ارشاد ہے۔( بے شک یہ ہے میری سیدھی راہ اس کی پیروی کرو)۔

اس ارشاد الہی کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ایک ہی راستہ ہے جو صحیح ہے اور یہی ہدایت ہے کہ جنت میں انجام پذیر ہو گا اور ابلیس بہت سی راہ نکالے ہوئے ہیں جو تمام گمراہی کی راہیں ہیں وہ جہنم میں انجام پذیر ہوگی۔حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمانے کے واسطے ایک خط اپنے ہاتھ مبارک سے کھینچ دیا اور فرمایا یہ ہیں سیدھی راہ اللہ کی اس کے بعد آپ نے متعدد خطوط اس کے دائیں بائیں جانب کھینچے اور پھر ارشاد فرمایا ان میں سے ہر ایک راہ پر ایک شیطان بیٹھ کر بلا رہا ہے پھر آپ نے مندرجہ بالا آیت پڑی۔حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ یہ راستے گمراہی کے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: